Monday , June 26 2017
Home / شہر کی خبریں / سرواسکھشا ابھیان کے تحت مزید دینی مدارس پر مقدمات کا امکان

سرواسکھشا ابھیان کے تحت مزید دینی مدارس پر مقدمات کا امکان

شہر اور اضلاع میں طلبہ کے نامو ںکا استعمال ، لاکھوں روپیوں کا غبن ، محکمہ جاتی تحقیقات کے بعد کارروائی متوقع
حیدرآباد۔13جنوری (سیاست نیوز) ریاست میں سروا سکھشا ابھیان دینی مدارس اسکیم کے متعلق نئے مقدمات درج کئے جائیں گی۔ سروا سکھشا ابھیان اسکیم میں فرضی دینی مدارس کے نام پر غبن کے انکشاف پر سی سی ایس میں ایک مقدمہ درج کیا گیا اور اس مقدمہ میں فرضی دینی مدارس کے چند ذمہ داروں کے ناموں کا انکشاف ہوا جن پر سرکاری اسکیم میں تغلب کے الزامات عائد کئے گئے ہیں ۔ اس مقدمہ کے بعد بھی جاری محکمہ جاتی تحقیقات کے دوران مزید انکشاف ہوئے ہیں جس کے سبب محکمہ تعلیم کی جانب سے ایک اور مقدمہ درج کروانے اور اسکیم کے تحت حاصل کی گئی رقومات کی واپسی کے اقدامات کے لئے کاروائی کے آغاز کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ محکمہ تعلیم کے اعلی عہدیداروں نے بتایا کہ سرواسکھشا ابھیان میں ہونے والی دھاندلیوں میں ملوث افراد جو خرد برد اور ودیا والینٹرس کے رقومات ہڑپنے کے مرتکب ہیں ان کے خلاف کاروائی شروع کی جائے گی کیونکہ ایس ایس اے اور محکمہ تعلیم کی جانب سے کی گئی محکمہ جاتی تحقیقات کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ چند بدعنوان عہدیداروں اور ملازمین کی مدد سے کروڑہا روپئے کے خرد برد میں کئی فرضی دینی مدارس کے ذمہ دار ملوث ہیں جنہوں نے ایک سے زائد مقام پر اپنے ناموں کے اندراج کے علاوہ دینی مدارس میں خدمات انجام دیتے ہوئے دینی مدارس چلانے کے نام پر سرواسکھشا ابھیان سے لاکھوں روپئے وصول کئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاست میں موجود اس اسکیم میں غبن کے سلسلہ میں جاری تحقیقات پڑوسی ریاست تک بھی پہنچ سکتی ہیں کیونکہ بعض فرضی مدارس کے ذمہ داروں نے ریاست کے دیگر اضلاع میں بھی اپنے ناموں اور اہل خانہ کے ناموں پر سرواسکھشا ابھیان سے رقومات حاصل کی ہیں۔ ابتدائی طور پر یہ سمجھا جا رہا تھا کہ سروا سکھشا ابھیان اسکیم میں خرد برد کے مرتکبین شہر حیدرآباد و سکندرآباد تک محدود ہیں لیکن جامع تحقیقات کے دوران محکمہ کو اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ جو لوگ حیدرآباد میں فرضی مدارس کے نام پر رقومات حاصل کر رہے ہیں وہی لوگ ضلع رنگا ریڈی میں بھی اسی طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں جس کے سبب یہ اسکام بین ضلعی اسکام تصور کیا جا رہا تھا لیکن اب یہ اسکام بین ریاستی ہوتا جا رہا ہے کیونکہ اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ جن طلبہ کے ناموں کا اندراج حیدرآباد کے مدارس میں دکھایاگیا ہے وہی ریکارڈس ریاست کے دیگر اضلاع میں بھی پیش کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اسکام میں بعض معتبر معیاری مدارس کے نام بھی شامل ہونے لگے ہیں لیکن یہ بات بھی کہی جا رہی ہے کہ ان معتبر دینی مدارس کے منتظمین کو اس بات کی اطلاع نہیں تھی کہ اسکیم کے نام پر جاری دھاندلیوں میں ان کے مدارس کے طلبہ و اساتذہ کے نام کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔محکمہ جاتی رپورٹ کی بنیاد پر حکومت سے اجازت کے حصول کے بعد محکمہ تعلیم کی جانب سے اس سلسلہ میں شکایت کے درج کروانے کے متعلق فیصلہ کیا گیا ہے اور حکومت نے اسکام میں ملوث فرضی دینی مدارس کے خلاف کاروائی میں شدت پیدا کرنے کی ہدایت دی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT