Thursday , August 17 2017
Home / اضلاع کی خبریں / سرواشکشاابھیان کے تحت اقلیتوں کے فنڈس میں کمی افسوسناک

سرواشکشاابھیان کے تحت اقلیتوں کے فنڈس میں کمی افسوسناک

مرکز کی بی جے پی حکومت پر تنقید، بنگلور میں علاقائی کانفرنس، ریاستی وزراء مسرس روشن بیگ اور قمرالاسلام کا خطاب
بنگلورو۔20؍مارچ:(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)سروا شکشا ابھیان کے تحت ریاست کو ملنے والے گرانٹ میں کمی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے وزیر اطلاعات، انفراسٹرکچر وحج روشن بیگ نے کہاکہ خصوصیت کے ساتھ اقلیتوں کو ملنے والے گرانٹس میں بھاری کمی کو پر کرنے کیلئے قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارہ جات کو مناسب پہل کرنی چاہئے، اور مرکزی حکومت سے سفارش کرنی چاہئے کہ شعبۂ تعلیم میں فنڈز کی کمی نہ ہونے پائے۔قومی کمیشن اور ریاستی محکمۂ تعلیمات کے اشتراک سے شہر میں منعقدہ علاقائی کانفرنس میں صدارتی خطاب کرتے ہوئے روشن بیگ نے کہاکہ پچھلی یو پی اے حکومت کے دوران سروشکشا ابھیان کے تحت اسکولوں کو بنیادی ڈھانچوں کی فراہمی پر کافی فنڈز دئے جاتے رہے، لیکن مرکز میں بی جے پی کے اقتدار پر آنے کے بعد سے سروا شکشا ابھیان کے تحت فنڈز کی فراہمی گھٹ چکی ہے۔ انہوںنے کہاکہ سروا شکشا ابھیان کے تحت اردو اسکولوں کو زیادہ سے زیادہ امداد یقینی بنانے کیلئے انہوں نے بذات خود شہر میں ایک عظیم الشان اردو کانفرنس کا اہتمام کیاتھااور اس وقت کے وزیر برائے فروغ انسانی وسائل ڈاکٹر ایم اے اے فاطمی نے شرکت کی،اور اس کانفرنس کے بعد اردو اور دیگر اقلیتی زبانوں کے اسکولوں میں انفرااسٹرکچر کے سدھار کیلئے کافی فنڈز مہیا کرانے کیلئے قدم اٹھائے گئے۔ موجودہ حکومت نے لسانی اقلیتی اسکولوں کی ترقی کو نظر انداز کررکھا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پرائیویٹ اسکولوں میں جہاں بنیادی تعلیم کی شروعات سے قبل نرسری کا نظام موجود ہے، سرکاری اسکولوں بالخصوص لسانی اقلیتی اسکولوں میں بھی نرسری تعلیم کا نظام قائم ہونا چاہئے،کیونکہ نجی اسکولوںمیں پہلی جماعت تک پہنچتے پہنچتے بچہ بہت کچھ سیکھ چکا ہوتا ہے،جبکہ سرکاری اسکولوں میں ایسی صورتحال نہیں ہے۔ پانچ چھ سال کی عمر میں جب بچہ پہلی جماعت میں پڑھنے جاتا ہے تو اسے کچھ نہیں آتا۔ نجی اسکولوں کے بچوں کے مقابل سرکاری اسکولوں کے بچے احساس کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ سروا شکشا ابھیان کے تحت اسکولوں میں بیت الخلاء ، میدان اور اضافی کمروں کی تعمیر کیلئے فنڈز مہیا کرائے جاتے تھے، لیکن اب ان فنڈز کی فراہمی میں کمی کے سبب اسکولوں کو انفرااسٹرکچر مہیا کرانا مشکل ہوچکا ہے۔ کمیشن اس سلسلے میں مرکزی حکومت کو متوجہ کرائے۔ انہوںنے کہاکہ مرکزی حکومت کی طرف سے اقلیتوں کو نظر انداز کرنا درست نہیں۔ انہوںنے کہاکہ لسانی اقلیتی اسکولوں میں نرسری تعلیم کیلئے آنگن واڑیاں قائم کی جائیں ، جہاں بچوں کو مادری زبان میں تعلیم کا انتظام کیا جائے۔ سروا شکشا ابھیان کے تحت آنگن واڑیوں کو دئے جانے والے گرانٹس میں بھی بھاری کمی پر انہوںنے افسوس ظاہر کیا۔ وزیر برائے اقلیتی بہبود واوقاف ڈاکٹر قمر الاسلام نے اس موقع پر مخاطب ہوکر کہاکہ وزیر اعلیٰ سدرامیا نے جو بجٹ پیش کیا ہے اس میں اقلیتوں کیلئے ملک میں اپنی نوعیت کی منفرد ومثالی اسکیموں کا اعلان کیا ہے، اقلیتی بچوں کی اسکالر شپ سے لے کر بیرون ممالک میں تعلیم کے اخراجات تک ریاستی حکومت برداشت کررہی ہے۔اس کے ساتھ ہی اقلیتی امیدواروں میں قائدانہ صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کا بھی ایک پروگرام اپنایا گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ وزیر اعلیٰ سدرامیا نے سماجی انصاف کے تمام تقاضوں کو اس بجٹ کے ذریعہ پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اقلیتی کمیشن کو سیول کورٹ کے اختیارات دینے حکومت کی پہل کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ سدرامیا نے اس پر رضامندی ظاہر کردی ہے، اسمبلی میں اس ضمن میں ایک ترمیمی بل پیش کیاہے۔رواں اجلاس میں اس بل کے منظور ہوجانے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہاکہ یو پی اے کے دور اقتدار میں ملک کے غریب عوام کی سہولت کیلئے حق تعلیم قانون نافذ کیا گیا۔ جس کی وجہ سے لاکھوں غریب طلبا کو عمدہ معیاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا ہے۔ اقلیتی تعلیمی اداروں کی طرف سے آر ٹی ای قانون کو اپنانے سے انکار کے تنازعہ پر قمر الاسلام نے کہاکہ یہ معاملہ عدالتی جھمیلوں کا شکار ہوچکا ہے، جب تک اس سلسلے میں عدالت کا فیصلہ صادر نہیں ہوجاتا کچھ نہیں کہاجاسکتا۔ انہوںنے بتایاکہ دوپہر کے کھانے کی اسکیم، یونیفارم کی فراہمی اور تمام اسکولوں سے اسکالر شپ کیلئے ملنے والی تمام درخواستوں کو حکومت نے رواں تعلیمی سال کے دوران منظوری دی ہے۔مرکزسے ملنے والی امداد کے ساتھ حکومت کرناٹک بھی اقلیتوں کی تعلیم پر خطیر فنڈز خرچ کررہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ پری میٹرک اسکالر شپ کیلئے مرکز سے 190  کروڑ روپے ریاست کو مل رہے ہیں تو ریاستی حکومت 195 کروڑ روپے خرچ کررہی ہے، اس اسکالر شپ اسکیم کی مدد سے ڈراپ آؤٹ کی شرح میں کمی لانے میں کافی مددملی ہے۔ بجٹ میں مدارس کی جدید کاری اور وہاں عصری علوم کے اہتمام کیلئے حکومت کی طرف سے کل معلنہ اسکیم کواپنی نوعیت کی منفرداسکیم قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ان مدارس میں طلبا کو عصری تعلیم سے آراستہ کرنے والے اساتذہ کی تنخواہیں حکومت کی طرف سے برداشت کرنے کا منصوبہ ہے۔ انہوںنے کہاکہ حق تعلیم قانون کے تحت اقلیتی تعلیمی اداروں کو مستثنیٰ قرار دینے کے سلسلے میں حکومت سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔اقلیتی تعلیمی اداروں کے طور پر منظوری کیلئے ہر سال سند حاصل کرنے کی پابندی کے متعلق قمر الاسلام نے بتایاکہ اس سالانہ تجدید کے عمل کو ختم کرتے ہوئے پانچ سال میں ایک مرتبہ منظوری کی شرط پر بھی سنجیدگی سے غور خوض کے بعد فیصلہ لیا گیا ہے۔اس موقع پر کمیشن کے ممبر ڈاکٹر بلتیج سنگھ مان نے اپنے خیالات ظاہر کئے ۔ کمیشن کے ایک اور ممبرظفر آغا نے خیر مقدمی خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوںنے بتایاکہ ملک بھر میں 12ہزار اداروں کو اقلیتی تعلیمی اداروں کا درجہ دیا گیا ہے۔ کمیشن کی طرف سے اس طرح کی کانفرنسوں کا اہتمام ملک کے تمام علاقوں میں کیا جارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT