Friday , April 28 2017
Home / شہر کی خبریں / سروا سکھشا ابھیان میں اسکام کے ملزمین کو سیاسی پناہ

سروا سکھشا ابھیان میں اسکام کے ملزمین کو سیاسی پناہ

اسکام کی تحقیقات میں شدت، علیحدہ ہونے والے مدارس کی بھی تحقیقات متوقع
حیدرآباد۔19مارچ(سیاست نیوز) سروا سکھشا ابھیان اسکام کی تلنگانہ قانون ساز کونسل میں گونج کے بعد فرضی دینی مدارس کے متعلق نئی تحقیقات کا آغاز کئے جانے کا منصوبہ ہے کیونکہ ڈپٹی چیف منسٹر و ریاستی وزیر تعلیم مسٹر کڈیم سری ہری نے ایوان کو اسکام کی تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے آدھار کارڈ کو اسکیم سے مربوط کئے جانے کے بعد اسکیم کے استفادہ کنندہ مدارس کی تعداد میں بھاری گراوٹ آئی ہے اور طلبہ کے اندراج میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس اعتراف کے بعد محکمہ تعلیم کی جانب سے پیش کردہ تجویز کے مطابق آدھار کے لزوم کے بعد اسکیم سے علحدگی اختیار کرنے والے تمام مدارس کی تحقیقات کے احکام کی اجرائی متوقع ہے کیونکہ ریاست بھر میں فرضی دینی مدارس کے معاملہ کے انکشاف کے بعد سے ہی یہ کہا جا رہا تھا کہ اسکام کی جڑیں ریاست کے دیگر اضلاع تک پھیلی ہوئی ہیں لیکن کاروائی صرف حیدرآباد میں کی جا رہی ہے اور ضلع رنگا ریڈی میں اس کا اثر نہیں دیکھا جا رہا ہے لیکن اب جو صورتحال پیداہو چکی ہے تو ان تمام افراد کے خلاف کاروائی کی گنجائش پیدا ہونے لگی ہے جو اس اسکام میں کسی بھی طرح سے ملوث ہیں۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے کی جانے والی اس تحقیقات میں اب تک جن ناموں کا انکشاف ہوا ہے وہ سیاسی پناہ حاصل کرنے کی کوشش بھی کرچکے ہیں لیکن اب جبکہ سرواسکھشا ابھیان کے تحت دینی مدارس کو امداد کی اسکیم میں ہونے والی دھاندلیوں کی گونج ایوان میں سنائی دی تو اس کے بعد محکمہ تعلیم نے اس اسکام کی تحقیقات کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ آدھار کے لزوم کے بعد جن مدارس نے ایس ایس اے کی اس اسکیم سے قطع تعلق کیا ہے ان سے تمام تفصیلات اکٹھا کرتے ہوئے محکمہ کو تحقیقات کے دوران حاصل ہونے والے مواد کے ساتھ اس کا جائزہ لیا جائے گا ۔ دونوں شہروں میں 16فرضی دینی مدارس کے ذمہ داروں کے خلاف کی گئی کاروائی کو غیر مختتم قرار دیتے ہوئے محکمہ تعلیم کے اعلی عہدیدار نے بتایا کہ تلنگانہ قانون ساز کونسل میں ڈپٹی چیف منسٹر نے واضح کردیا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور اس تحقیقات کے دوران محکمہ جاتی کاروائی کے ساتھ ساتھ فوجداری مقدمات بھی عائد کئے جائیں گے کیونکہ جن لوگوں نے اسکام میں مدد کی ہے ان لوگوں کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہونے کے علاوہ بعض ملازمین کے اعتراف جرم بھی موجود ہیں علاوہ ازیں محکمہ تعلیم کا ماننا ہے کہ آدھار کارڈ کے لزوم کے فوری بعد اسکیم سے علحدگی اختیار کرنے والے مدارس کی بھی مکمل تحقیقات کی جانی چاہئے اور انہیں امید ہے کہ ریاستی حکومت اسکام کی تہہ تک پہنچنے اور سرکاری اسکیم کی رقومات کے تغلب میں ملوث افراد سے رقومات کی وصولی کیلئے باضابطہ اجازت فراہم کرے گی اور حکومت کی جانب سے تحقیقات میں رکاوٹ پیداکرنے کی کوششوں کو ناکام بنا دیا جائے گا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT