Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / سروا سکھشا ابھیان کے تحت دینی مدارس کا غبن، مزید دو عہدیداران معطل

سروا سکھشا ابھیان کے تحت دینی مدارس کا غبن، مزید دو عہدیداران معطل

158 والینٹرس سے جانچ کا فیصلہ، فرضی مدارس کی تحقیقات میں شدت، دیگر عہدیداران بھی شک کے دائرہ میں
حیدرآباد۔29جنوری(سیاست نیوز) سرواسکھشا ابھیان اسکام میں محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری تفتیش میں شدت پیدا کرتے ہوئے محکمہ تعلیم کے مزید دو عہدیدار کو معطل کردیا گیا۔ فرضی دینی مدارس کے ذمہ داران کی جانب سے کئے گئے غبن اور محکمہ تعلیم کو دھوکہ دہی کے امور کی جانچ کا سلسلہ ابھی جاری ہے اور اس جانچ کے دائرے میں 158ودیا والینٹرس کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو تعلیمی سال 2013-14اور 2014-15کے دوران خدمات انجام دے چکے ہیں۔ مسٹر جی رمیش کے بموجب گذشتہ یوم محکمہ تعلیم کی جانب سے 8فرضی دینی مدارس کی تحقیقات میں مزید پیشرفت کے بعد رمیش کمار سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی انسپکٹر آف ایجوکیشن بہادرپورہ 2سید اصغر کو معطل کردیا گیا ہے اس کے علاوہ مزید تحقیقات جاری ہیں اوربہت جلد ان 158ودیا والینٹرس کو نوٹس جاری کی جائے گی جنہوں نے ان دو تعلیمی سالوں کے دوران تنخواہیں حاصل کی ہیں۔ مسٹر جی رمیش نے کہا کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے موصول ہونے والے احکامات کے مطابق کی جانے والی اس کاروائی میں محکمہ سے تعلق رکھنے والے مزید عہدیدار بھی خاطی پائے جانے کا خدشہ ہے اور ان کے خلاف کاروائی کو روکنے کیلئے محکمہ تعلیم کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا بلکہ سرکاری رقومات کے تغلب میں ملوث افراد کی مدد کرنے والو ںکے خلاف بھی کاروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ فرضی دینی مدارس کے تمام ودیا والینٹرس کے بینک اکاؤنٹس کی تفتیش کا عمل جاری ہے اور بہت جلد تمام بینک کھاتوں کی تفصیلات کی تنقیح کے بعد انہیں قطعی نوٹس جاری کرتے ہوئے رقومات واپس کرنے کی ہدایت جاری کی جائے گی اور ایسا نہ کرنے کی صور ت میں ان تمام کے خلاف سرکاری طور پر فوجداری مقدمات دائر کئے جائیں گے۔ محکمہ تعلیم کے عہدیداروں نے یہ واضح کیا کہ فی الحال جو مقدمہ زیر دوراں ہے وہ خانگی شکایت کی بنیاد پر چلایا جا رہا ہے جبکہ سرکاری طور پر اس سلسلہ میں بندلہ گوڑہ‘ بہادرپورہ ‘ چارمینار کے علاوہ مشیر آباد اور نامپلی منڈلوں کے فرضی دینی مدارس اور طلبہ کی اضافی تعداد دکھاتے ہوئے رقومات ہڑپنے والے مدارس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا ابھی آغاز نہیں ہوا ہے۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے کی جا رہی محکمہ جاتی تحقیقات میں اب تک جو انکشاف ہوئے ہیں ان کی بنیاد پر ان تمام فرضی دینی مدارس کے خلاف کاروائی کی جائے گی جنہوں نے طلبی کی تعداد سے چھیڑ چھاڑ کی ہے۔ ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر حیدرآباد مسٹر جی رمیش نے بتایا کہ 2014-15کے دوران بلیک لسٹ قرار دیئے گئے مدارس کے ودیا والینٹرس کی تنخواہوں کی اجرائی کے ذمہ دار عہدیداروں کے خلاف کاروائی کی جا رہی ہے۔ کمشنر محکمہ تعلیم مسٹر جی کشن کے بموجب سابق ڈی ای او حیدرآبادسومی ریڈی کے خلاف کاروائی کے سلسلہ میں صدرنشین ضلع سرواسکھشا ابھیان و کلکٹر حیدرآباد کو سفارش کی جا چکی ہے اور توقع ہے کہ بہت جلد ضلع کلکٹر حیدرآباد کی جانب سے سابق ڈی ای او کے خلاف فوجداری مقدمات کے اندراج کیلئے شکایت درج کروائیں گے۔ محکمہ تعلیم کے ذرائع کے بموجب شہر حیدرآباد کے علاوہ رنگا ریڈی اور اطراف کے اضلاع میں چلائے جانے والے فرضی دینی مدارس کے خلاف تحقیقات کا عمل جاری ہے ۔

TOPPOPULARRECENT