Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / سروا سکھشا ابھیان کے تحت فرضی مدارس کے خلاف کارروائی کا آغاز

سروا سکھشا ابھیان کے تحت فرضی مدارس کے خلاف کارروائی کا آغاز

رقومات کی وصولی میں کوئی نرمی نہیں ، کونسل میں کڈیم سری ہری کا بیان
حیدرآباد۔16مارچ (سیاست نیوز) فرضی دینی مدارس میں ہوئے سروا سکھشا ابھیان اسکام کا مسئلہ تلنگانہ قانون ساز کونسل میں موضوع بحث بنا رہا اور حکومت نے اس بات کی توثیق کی کہ ریاست تلنگانہ میں 16مدارس کے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کا آغاز کیا ہے اور محکمہ تعلیم کے 10عہدیداروں اور ملازمین کو معطل کیا جا چکا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر کڈیم سری ہری نے کونسل میں مسٹر پی سدھاکر ریڈی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سال 2014-15 کے دوران 511 دینی مدارس نے اپنا اندراج سروا سکھشا ابھیان کی اسکیم کے تحت کروایا تھا جس میں 16مدارس کے خلاف ثبوت و شواہد پائے جانے کے بعد کاروائی کی گئی ہے اور اس اسکام میں چند عہدیداروں کے ملوث ہونے کے سبب انہیں بھی معطل کرتے ہوئے محکمہ جاتی کاروائی کے ساتھ ساتھ فوجداری مقدمات عائد کرتے ہوئے کاروائی کی جا رہی ہے۔ مسٹر کڈیم سری ہری نے بتایا کہ حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے 16مدارس کے اسکام کی تفصیلات سامنے آئی ہیں اور حکومت نے اس طرح کے اسکامس کے خاتمہ کے لئے متعدد اقدامات کئے ہیں۔ اس واقعہ میں حکومت نے محکمہ تعلیم کے جن عہدیداروں کو معطل کیا ہے ان میں 5ڈپٹی ایجوکیشنل آفیسرس ‘ 2سپرٹنڈنٹ ‘ 2سینئر اسسٹنٹ اور ایک اسکول اسسٹنٹ شامل ہیں ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے بتایا کہ ان مدارس میں فرضی طلبہ کے ناموں کے اندراج کے ساتھ فرضی ودیا والینٹرس اور رشتہ داروں کو ودیاوالینٹرس کے طور پر درج کرواتے ہوئے رقومات منہاء کئے گئے ہیں ۔ فرضی طلبہ کے اندراج اور ناظم مدرسہ کی جانب سے اقرباء و رشتہ داروں کو ودیا والینٹرس کے طور پر رجسٹرڈ کرواتے ہوئے رقومات حاصل کرنے کے معاملات کی ابھی تحقیقات جاری ہیں۔ سری ہری نے بتایا کہ سال 2014-15میں 511مدارس ایس ایس اے کے ذریعہ بجٹ حاصل کرتے ہوئے مذہبی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنایا کرتے تھے لیکن حکومت نے جاریہ سال دینی مدارس کے طلبہ کیلئے آدھار کارڈ کا لزوم عائد کیا ہے جس کے سبب طلبہ کی تعداد میں بہت حد تک گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے اور مدارس بھی کافی کم ہوگئے ہیں۔ سال 2014-15کے دوران 511دینی مدارس میں 57ہزار طلبہ زیر تعلیم تھے لیکن جاریہ سال یہ تعداد گھٹ کر 7475 ہو گئی ہے اورتلنگانہ میں اب صرف 122دینی مدارس سروا سکھشا ابھیان اسکیم سے مربوط ہیں جنہیں ایک کروڑ 73لاکھ کی مالی مدد کی جا رہی ہے۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل جناب محمد علی شبیر نے وقفہ سوالات کے دوران ڈپٹی چیف منسٹر کے اس جواب پر تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں جاری اس اسکیم کی تشہیر اور اس اسکیم سے معیاری دینی مدارس کو مربوط کرنے کے علاوہ دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو عصری تعلیم کی فراہمی کے فوائدسے واقف کروانے کی ضرورت ہے تاکہ اسکیم سے زیادہ سے زیادہ ذمہ داران مدارس استفادہ حاصل کرسکیں۔ شبیر کی اس تجاویز پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مسٹر کڈیم سری ہری نے کہا کہ تمام بہتر تجاویز کو قبول کرتے ہوئے انہیں شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے بتایا کہ جن مدارس سے رقومات کے حصول کا مسئلہ ہے اس میں کوئی مفاہمت یا نرمی نہیں کی جائے گی بلکہ تمام رقومات وصول کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ علاوہ ازیں مزید تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے اور تحقیقات میں کسی دباؤ کو قبول کئے بغیر کاروائی کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT