Saturday , March 25 2017
Home / شہر کی خبریں / سروے پر بھروسہ نہیں ، عوام کا فیصلہ ہی قطعی

سروے پر بھروسہ نہیں ، عوام کا فیصلہ ہی قطعی

ٹی آر ایس کا سروے مسترد ، ایگزٹ پول اور سروے بے معنی ، کے جانا ریڈی
حیدرآباد ۔ 10 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کے جانا ریڈی نے کہا کہ انہیں سروے پر بھروسہ نہیں ہے ۔ عوام کا فیصلہ ہی قطعی ہوگا ۔ ٹی آر ایس کے سروے کو مسترد کردیا ۔ میڈیا کی جانب سے ٹی آر ایس کے سروے پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں عوام کا فیصلہ ہی قطعی ہوتا ہے ۔ اگزٹ پول اور سروے کوئی معنی نہیں رکھتے ۔ عوام جس پارٹی کو چاہے اقتدار سونپ سکتے ہیں جس پارٹی کو چاہے اقتدار سے محروم کرسکتے ہیں ۔ ہندوستان کے دستور نے اس اعتبار سے عوام کو کافی طاقتور بنایا ہے ۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کی جانب سے انہیں دئیے گئے نشانات سے اپنی لا تعلقی کا اظہار کرتے ہوئے میڈیا کے نمائندوں سے جانا ریڈی نے سوال کیا کہ کیا چیف منسٹر نے سرکاری خزانے سے سروے کردیا ہے ؟ قائد اپوزیشن نے میڈیا کی جانب سے کرائے جانے والے سروے پر بھی سوالیہ نشان اٹھاتے ہوئے کہا کہ آج کل میڈیا کی جانب سے کرائے جانے والے سروے درست کہاں ثابت ہورہے ہیں ۔ جانا ریڈی نے کہا کہ خود ان کے معاملے میں کئی مرتبہ انہیں شکست ہوجانے کا سروے میں انکشاف کیا گیا مگر نتائج کے بعد تمام سروے ناکام ثابت ہوئے انہیں سروے پر بھروسہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ سروے پر اعتبار کرتے ہیں ان کے لیے عوام کا فیصلہ قطعی ہوگا اور عوام کے فیصلے پر ہی وہ انحصار کرتے ہیں ۔ انہیں یقین ہے کانگریس پارٹی 2019 میں اقتدار حاصل کرے گی ۔ ابھی تک تو کانگریس پارٹی کا کسی جماعت سے کوئی سیاسی اتحاد و مفاہمت نہیں ہے ۔ انتخابات کے موقع پر اس پر غور کیا جائے گا ۔ کانگریس پارٹی نے سیاسی اتحاد کے لیے اپنے دروازے بند نہیں کئے ۔ جانا ریڈی نے چیف منسٹر بننے کا دعویٰ کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے آپ کو کبھی چیف منسٹر امیدوار کی حیثیت سے پیش نہیں کیا اور نہ ہی کسی کو چیف منسٹر کے لیے اپنی سفارش کرنے کی اپیل کی ہے ۔ اگر کسی کی جانب سے میرے چیف منسٹر بننے کی پیش قیاسی کی جاتی ہے تو کیا چیف منسٹر بن جاتے ہیں ۔ میرے اپنے چاہنے والے محبت میں کچھ بھی بول دیتے ہیں تو کیا وہ سچ ہوجاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ایک قومی جماعت ہے ۔ کئی پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جاتا ہے ۔ وہ جب ہندی سیکھ رہے تھے تب بھی کئی افواہیں چلائی گئی ۔۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT