Thursday , August 17 2017
Home / اضلاع کی خبریں / سرپور ٹاون میں مسلم شادی خانہ کی تعمیر ادھوری

سرپور ٹاون میں مسلم شادی خانہ کی تعمیر ادھوری

سرپور ٹاون /22 فروری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) جب بھی ریاست میں انتخابات آتے ہیں تو تمام پارٹیاں مسلم اقلیتوں کو خوشی کرنے کیلئے بڑے بڑے اعلانات کرتی ہیں ۔ تین عملی اقدامات کرنے سے دور بھاگتی ہیں اور ہمیشہ سے ہی مسلم اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی ہوتی آرہی ہے ۔ ہر دور میں ملسم ا قلیتوں کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کیا جاتا ہے اور بڑے بڑے اخباری اعلانات کرتے ہوئے انتخابات کے دور سے گذر جاتے ہیں ۔ ضلع عادل آباد کا ایک قدیم تعلقہ سرپور ٹاون ہے اور اس قدیم تعلقہ میں مسلم اقلیتی کثرت سے موجود ہیں۔ اس علاقہ کے مسلم اقلیتوں کو مدد کے طور پر سرپور ٹاون مستقر بس اسٹانڈ کے قریب اور مسجد یمنی کے روبرو فروری 2002 کو اس وقت رکن اسمبلی محترمہ پلوائی راجہ لکشمی اس وقت کے منڈل پریشد صدر محمد رئیس احمد اور اس وقت کے رکن پارلیمان عادل آباد ، ڈاکٹر وینو گوپال چاری اور اس وقت کے ضلع پریشد چیرمین عادل آباد لوم شیام سندر کے علاوہ مقامی سیاسی قائدین کی نگرانی میں سرپور ٹاجون مسلم شادی خانہ کے تعمیراتی کاموں کا سنگ بنیاد رکھا گیا ۔ جس کی تعمیر ابھی تک ادھوری ہے ۔ یہاں پر اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ اس روز اکثریت فرقہ کے لوگوں نے تلگو شادی خانہ کیلئے مطالبہ کیا تھا آج تلگو شادی خانہ مکمہ ہندو بھائیوں کیلئے شادی رچانے کیلئے دستیاب ہے ۔ لیکن اس کے بہ نسبت 2002 فروری سال میں ان تمام سیاسی قائدین کی موجودگی میں سرپور ٹاون مسلم شادی خانہ کے تعمیراتی کاموں کا سنگ بنیاد رکھا گیا جوکہ آج تک ادھورا پڑا ہوا ہے ۔ سنگ بنیاد کے فوری بعد کام کا آغاز نہیں کیا گیا ۔ لیکن 2005 سال کے درمیان اس وقت کے رکن اسمبلی کونیرو کونپا کی کوشش کی بدولت مسلم شادی خانہ کے تعمیراتی کاموں کیلئے لگ بھگ 3 تا 4 لاکھ روپیوں کی منظوری ہوئی اور تعمیراتی کاموں کو انجام دیا گیا ۔ اس کے بعد آج تک مسلم شادی خانہ کے تعمیراتی کام ادھورے پڑے ہیں ۔ تمام سیاسی پارٹیاں مسلم اقلیتوں کو خوش کرنے کیلئے اور سرپور ٹاون مسلم شادی خانہ کے تعمیراتی کاموں کو مکمل کرنے سے متعلق مسلم اقلیتوں کو خوش کرتے آرہے ہیں لیکن عملی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں ۔ وعدوں کو پورا نہ کرنے والوں میں تمام پارٹی قائدین کے ساتھ ساتھ موجودہ چیف منسٹر بھی شامل ہیں ۔ 22 نومبر 2008 سال کے روز ٹی آر ایس پارٹی صدر اور چیف منسٹر تلنگانہ نے آج سے 6 سال قبل سرپور ٹاون تعلقہ کے مختلف علاقوں کا 22 نومبر 2008 سال کو دورہ کیا تھا ۔ اس موقع پر روڈ شو سے خطاب کرتے ہوئے اس وقت کے برسر اقتدار جماعت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مسلم اقلیتوں کے سمائل کی یکسوئی نہ کرنے کا الزام عائد کیا تھا اور کہا کہ سرپور ٹاون مستقر کا ادھورا مسلم شادی خانہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ برسر اقتدار حکومت مسلم اقلیتوں کے ساتھ کتنی محبت اور ہمدردی رکھتی ہیں ۔ لیکن کے سی آر سرپور ٹاون مستقر کے مسلم میناریٹی شادی خانہ کے ادھورے تعمیراتی کاموں کیلئے پانچ لاکھ روپیوں کی منظوری کرنے کا اعلان کرتا ہوں ۔ کے سی آر کے اعلان کے ساتھ ہی سارے مسلم اقلیتوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ سرپور ٹاون کے معصوم مسلم اقلیتوں کا اس بات کا عمل نہ تھا کہ یہ سیاسی اعلانات ہیں ۔عملی اقدامات نہیں ہوسکتے ہیں ۔ اس لئے ریاست تلنگانہ کے چیف منسرٹ کے سی آر سے سرپور ٹوان کے مسلم اقلیتوں کا مطالبہ ہے کہ آپ دورے سرپور ٹاون میں روڈ شو سے خطاب کے دوران سرپور ٹاون مسلم میناریٹی شادی خانہ کے ادھورے تعمیراتی کاموں کو مکمل کرنے کیلئے 5 لاکھ رپویوں کو دینے کا عوام کے روبرو اعلان کیا تھا ۔ اس نے 7 سال بعد علحدہ ریاست کی تشکیل بھی ہوچکی ہے ۔ اس لئے اپنے وعدہ پر عمل آوری کرنے کا مسلم اقلیتوں کی جانب سے مطالبہ کیا جارہا ہے ۔ وعدہ کو نبھانے کا مسلم اقلیتوں کی جانب سے مطالبہ کیا جاتا ہے ۔ ورنہ دھیرے دھرے مسلم اقلیتوں میں سے ٹی آر ایس پارٹی کا بھروسہ اٹھ جائے گا اور آنے والے دنوں میں مسلم اقلیتوں کی جانب سے سیاسی جواب دینے کیلئے تیار ہونا پڑے گا ۔

TOPPOPULARRECENT