Saturday , October 21 2017
Home / اداریہ / سرکاری اراضیات پر قبضے

سرکاری اراضیات پر قبضے

تلنگانہ میں ہزاروں ایکرس پر پھیلی ہوئی سرکاری اراضیات پر لینڈ گرابرس کا قبضہ ہے۔ یہی حال اوقافی جائیدادوں کا بھی ہے۔ سرکاری و اوقافی جائیدادوں پر سے ناجائز قبضوں کو برخاست کرنے کی کوشش شروع کی جاتی ہے مگر اس کے نتائج برآمد نہیں ہوتے۔ اب حکومت تلنگانہ نے یہ تہیہ کرلیا ہے کہ سال 1999 ء اور 2007 ء کے درمیان جن دو لاکھ جائیدادوں کا رجسٹریشن ہوا ہے ان کی محکمہ مال اور رجسٹریشن اینڈ اسٹامپس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جانچ کی جائے گی۔ یہ رجسٹریشن نوٹیفائیڈ سرکاری اراضی پر ہوئے ہیں۔ حال ہی میں ہائیکورٹ نے نوٹیفائیڈ سرکاری اراضی پر ہونے والے رجسٹریشن پر پابندی عائد کی ہے۔ اس فیصلہ سے حوصلہ پاکر تلنگانہ حکومت نے سرکاری اراضیات کو انفرادی طور پر کئے جانے والے رجسٹریشن کو کالعدم کرنے پر غور کیا ہے

لیکن حکومت کے لئے مشکل یہ ہے کہ لینڈ گرابرس نے سرکاری اراضیات پر پلاٹ بناکر فروخت کئے ہیں اور یہ کام محکمہ مال کے عہدیداروں اور لینڈ گرابرس کی ملی بھگت کے بغیر ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ چند ماہ قبل ایک ریٹائرڈ آئی اے ایس آفیسر کی قیادت میں ٹاسک فورس کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اور ضلع رنگاریڈی اور ضلع میدک کے چند علاقوں میں سرکاری اراضیات پر ناجائز قبضوں کی نشاندہی کی تھی لیکن ان ناجائز قبضوں کو برخاست کرانے میں حکومت کہاں تک کامیاب ہوسکی یہ واضح نہیں ۔ ریاستی حکومت نے سرکاری طور پر یہ اعتراف کیا ہے کہ 98,169 ایکر سرکاری اراضی کو خانگی افراد کو فروخت کردیا گیا۔ 10 ہزار ایکڑ سرکاری اراضیات خانگی افراد کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے تو اس معاملہ میں محکمہ مال کی مجرمانہ چشم پوشی کا اصل سوال اٹھتا ہے۔ ریونیو ڈپارٹمنٹ کے عہدیداروں نے حال ہی میں شہر کے بنڈلہ گوڑہ منڈل میں غوث نگر کی اراضی کو سرکاری قرار دے کر وہاں تعمیر کردہ غریبوں کے مکانات کو منہدم کردیا تھا وہیں پر یہ ریونیو عہدیدار لینڈ گرابرس کے قبضہ والی اراضیات کو آزاد کرانے میں ناکام رہے۔ جن غریبوں کو بے سہارا کردیا گیا تھا ان غریبوں نے لینڈ گرابرس سے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی خرچ کرکے خریدا تھا لیکن لینڈ مافیا آسانی سے بچ گیا۔ مقامی لینڈ گرابرس اور ریونیو حکام کے درمیان گٹھ جوڑ کے بغیر یہ ممکن ہی نہیں سمجھا جاتا۔ یہ عہدیدار مقامی سیاسی لیڈروں کی سرپرستی میں زمینات پر قبضہ کرنے والوں تک پہونچنے کی ہمت نہیں کرتے۔ اوقافی جائیدادوں پر ناجائز قبضوں کو برخاست کرانے کے لئے وقف بورڈ کی جانب سے بھی کوششوں کے نتائج زیادہ تر صفر ہی رہے ہیں۔

تلنگانہ کے بڑے شہروں خاص کر حیدرآباد و سکندرآباد کے علاوہ اس سے متصل اضلاع رنگاریڈی اور میدک میں ایسی کوئی سرکاری جگہ یا اوقافی جائیداد نہیں جہاں بااثر لوگوں یا مافیا نے سرکاری اور نجی زمینوں پر ناجائز قبضہ نہ کیا ہو۔ یہ قبضے کئی برسوں سے جاری ہیں۔ حکومت اس معاملہ میں خود کو بے بس سمجھتی ہے تو عام شہری کا حال اس سے ابتر رہتا ہے۔ حیدرآباد میں قانون کی حکمرانی سب سے زیادہ سمجھی جاتی ہے لیکن اس قانون کے باوجود غیر قانونی کام بھی اندھا دھند طریقے سے انجام دیئے جاتے ہیں۔ ریونیو ڈپارٹمنٹ اور دیگر سرکاری محکموں میں قانون کا مذاق جتنا حیدرآباد میں اُڑایا جارہا ہے اتنا کسی شہر میں نہیں۔ مقامی جماعت کی سرپرستی میں یا سیاسی طاقتور لوگوں کی نگرانی میں ہزاروں ایکڑ اراضیات پر قبضہ ہورہا ہے۔ اوقافی جائیدادیں جن کی مالیت کروڑہا روپئے ہے پر قبضہ برخاست کرنے کا خواب پورا نہیں ہوا۔ حکومت کی کارکردگی پر حیرت کی بات یہ ہے کہ جن اراضیات پر ناجائز قبضے کرکے عمارتیں تعمیر کرلی گئی ہیں ان عمارتوں کو منظوری بھی دی گئی۔ برقی اور سربراہی آب کے کنکشن بھی حاصل کرلئے گئے اور یہ کام بغیر ملی بھگت ممکن نہیں ہوتا۔ یعنی حکومت اور اس کے کارندے مافیا کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ جب زمین قبضہ کی اور تعمیرات ناجائز ہوں تو ان کو برقی اور پانی کی سربراہی کس طرح دی جارہی ہے۔ ریونیو ڈپارٹمنٹ صرف ان لوگوں کو نوٹس جاری کرتا ہے جو مجبور اور بے بس غریب عوام اپنی محنت کی کمائی سے لینڈ گرابرس کے چنگل میں پھنس کر مکان بنالیتے ہیں۔ اصل مافیا حکومت اور سرکاری عہدیداروں کو چکمہ دینے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ پولیس اور سرکاری عہدیداروں کے لئے کوئی کام اتنا مشکل نہیں ہوتا کہ وہ مسئلہ کو حل نہ کرے۔ صرف ہمت اور فرض شناسی کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے کارندوں کے پاس نہ ہی ہمت دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی فرض شناس ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT