Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / سرکاری اسکولس کے طلبہ کو بہتر بنانے اساتذہ کی عدم دلچسپی

سرکاری اسکولس کے طلبہ کو بہتر بنانے اساتذہ کی عدم دلچسپی

اساتذہ کے خانگی اسکولس ، یونین کی سرگرمیاں ، درس و تدریس کے بجائے دیگر مصروفیات
حیدرآباد۔13جنوری(سیاست نیوز) بہار ‘ اتر پردیش و دیگر شمالی ہند کی ریاستوں کے سرکاری اسکولوں کے معیار تعلیم کی کئی مثالیں منظر عام پر آچکی ہیں لیکن اب ریاست تلنگانہ کے سرکاری اسکولوں کے معیار تعلیم کی بھی حالت وہی ہونے لگی ہیں لیکن اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ شہر حیدرآباد کے پڑوسی ضلع محبوب نگر میں گذشتہ دنوں ضلع کلکٹر کی جانب سے کی گئی کاروائی کے بعد اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ شہر کے بھی کئی اسکولوں کے طلبہ کی یہی حالت ہے اور وہ اپنے نام لکھنے سے قاصر ہیں۔ شہر میں چلائے جانے والے سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کررہے طلبہ کے معیار میں بہتری کے لئے حکومت کی جانب سے متعدد اقدامات کئے جا رہے ہیں اس کے باوجود تعلیمی معیار میں بہتری پیدا نہ ہونے کی بنیادی وجہ اسکولوں میں موجود ذمہ داراں کی عدم دلچسپی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ محکمہ تعلیم کی تحقیقات میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ریاست کے کئی اسکولوں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ اپنے خانگی اسکول چلا رہے ہیں اور ان اسکولوں کی وجہ سے وہ سرکاری اسکولوں میں خدمات کی انجام دہی میں دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کرتے جس کے سبب معیار تعلیم میں گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ ریاست کے کئی اسکولوں میں اساتذہ اپنی جگہ دوسروں کو خدمات کی انجام دہی کے لئے نصف سے بھی کم تنخواہوں پر معمور کرتے ہوئے کام چلارہے ہیں۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں چلائے جانے والے سرکاری اسکولو ںمیں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کی عدم دلچسپی اور ان کی یونین سرگرمیوں کے متعلق محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصہ میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ بعض اساتذہ جو یونین کے ذمہ داروں میں ہیں ان کی سرگرمیاں بجا ہیں لیکن کئی اساتذہ و صدر مدرسین جو کسی یونین سے وابستہ نہیں ہیں بلکہ اپنی چھوٹی اسوسیشن کے نام پر اسکولوں سے غیر حاضر رہتے ہوئے پیروی میں مصروف رہنے لگے ہیں جس کے سبب طلبہ کی تعلیم متاثر ہورہی ہے۔ ریاست تلنگانہ میں سرکاری اساتذہ کی مضبوط و مستحکم تنظیمیں موجود ہیں اور ان تنظیموں کے ذمہ داروں سے محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کو کوئی شکایت بھی نہیں ہے لیکن شہری علاقوں میں خدمات انجام دینے والے کئی ملازمین تنظیم کے کام کاج کے نام پر اسکولوں سے غیر حاضر رہنے کو اپنا وطیرہ بنا چکے ہیں جس کے سبب اسکول میں طلبہ کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔ سرکاری اسکولوں میں تعلیم کو بہتر بنانے کیلئے حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل کلاس رومس کا آغاز کرنے کے علاوہ انگریزی میڈیم اسکول کھولے جا رہے ہیں لیکن اس کے باوجود سرکاری اسکولوں کے معیار تعلیم میں کوئی تبدیلی رونما ہوتی نظر نہیں آرہی ہے بلکہ اساتذہ کی جانب سے طلبہ ناخواندہ گھریلو ماحول کو مورد الزام ٹھہراتے ہو ئے ان کے تعلیمی معیار میں بہتری نہ آنے کی دلیل پیش کی جاتی ہے۔حکومت کی جانب سے سرکاری اسکولوں میں ودیا والینٹرس کی خدمات کے حصول نے اساتذہ کو بھی اپنی جگہ کسی اور کے ذریعہ خدمات کروانے کا راستہ فراہم کیا ہے جس کا فائدہ کئی لوگ اٹھانے لگے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT