Wednesday , April 26 2017
Home / شہر کی خبریں / سرکاری اسکولوں میں اردو زبان متعارف کرنے اقدامات

سرکاری اسکولوں میں اردو زبان متعارف کرنے اقدامات

ابوالکلام آزاد یوم پیدائش کے موقع پر اردو اکیڈیمی ایوارڈس، ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی کا خطاب
حیدرآباد۔/16نومبر، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے کہا کہ تلنگانہ حکومت اقلیتوں کی ہمہ جہتی ترقی اور اردو زبان کی ترقی و فروغ کے عہد کی پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے تمام سرکاری اسکولوں میں اردو زبان کو متعارف کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ حکومت نے اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کیلئے جو اقامتی اسکولس قائم کئے ہیں ان میں اردو زبان اور دینیات کو لازمی مضمون کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر آج اندرا پریہ درشنی ہال باغ عامہ میں بیسٹ اردو ٹیچر اور بیسٹ اردو اسٹوڈنٹ ایوارڈز کی پیشکشی کے موقع پر خطاب کررہے تھے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کے یوم پیدائش کے موقع پر اردو اکیڈیمی کی جانب سے ہر سال یہ ایوارڈز پیش کئے جاتے ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ آندھرائی حکمرانوں نے گزشتہ 60 برسوں میں مسلمانوں کے ساتھ ہر شعبہ میں ناانصافی کی ہے۔ آندھرائی حکمراں تلنگانہ کی تہذیب اور زبان سے ناواقف تھے لہذا انہوں نے اردو زبان کی ترقی پر کبھی بھی توجہ نہیں دی۔ آندھرائی قائدین نے تلنگانہ کے وسائل کو لوٹ لیا اور علاقہ کو پسماندہ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے 14 برس تک پرامن جدوجہد کے ذریعہ علحدہ ریاست حاصل کی اور اسے ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں امن و ضبط کی صورتحال اور گنگا جمنی تہذیب کے تحفظ کیلئے چیف منسٹر اور وزیر داخلہ کے اقدامات قابل ستائش ہیں۔ تلنگانہ کا ہر شہری گنگا جمنی تہذیب کی برقراری پر مسرت کا اظہار کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں اقلیتوں کی ترقی اور خوشحالی کیلئے حکومت کئی اہم اعلانات کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ چیف منسٹر کو اقلیتوں کی ترقی میں غیر معمولی دلچسپی ہے اور اس کا اظہار ان کے عملی اقدامات سے ہوتا ہے۔ محمود محمود علی نے سرسید احمد خاں اور مولانا ابوالکلام آزاد کی مسلمانوں کیلئے تعلیمی خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کے چندر شیکھر راؤ کا تقابل مذکورہ عظیم شخصیتوں سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سرسید احمد خاں اور مولانا آزاد کے بعد اگر کسی نے مسلمانوں کی ترقی پر توجہ دی ہے تو وہ چندر شیکھر راؤ ہیں۔ پہلے ہی مرحلہ میں انہوں نے مسلمانوں کیلئے 71 اقامتی اسکولس قائم کئے اور آئندہ پانچ برسوں میں دیڑھ لاکھ اقلیتی طلبہ کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ اقامتی اسکولس اگرچہ انگلش میڈیم کے ہیں لیکن ان میں اردو اور دینیات کو لازمی مضمون کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 400سال تک جو قوم حکمراں رہی ہے آج وہ دلتوں سے زیادہ پسماندہ ہے۔ سچر کمیٹی رپورٹ میں اس کا اعتراف کیا گیا۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی پسماندگی کے خاتمہ کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے ایوارڈ یافتہ اساتذہ کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ذمہ دار شہری اور قابل افراد کو تیار کرنا اساتذہ کی ذمہ داری ہے اساتذہ ہی قوم کے معمار تیار کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی قومی شخصیتوں کی ترقی میں ان کے اساتذہ کا اہم رول رہا ہے۔

کے سی آر کو موجودہ صدی کی عظیم شخصیت قرار دیتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست کو خوشحال ریاست میں تبدیل کرنا اور ہر شخص کے چہرے پر خوشی لانا ان کا مقصد عین ہے۔ وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی نے مولانا ابوالکلام آزاد کو خراج پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ عظیم محب وطن اور مجاہد آزادی تھے۔ انہوں نے اردو زبان کی زبوں حالی پر افسوس کا اظہار کیا اورکہا کہ اردو محبت کی زبان ہے اور ایک طاقتور زبان  کا درجہ رکھتی ہے اسے زندہ رکھنا ہر شہری کا فرض ہے۔(سلسلہ صفحہ 6 پر)

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT