Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / سرکاری اسکولوں کا معیار بہتر بناناسب سے بڑا چیلنج : جاوڈیکر

سرکاری اسکولوں کا معیار بہتر بناناسب سے بڑا چیلنج : جاوڈیکر

نئی دہلی،16مئی(سیاست ڈاٹ کام) وزیر فروغ انسانی وسائل پر کاش جاوڈیکر نے آج تعلیم کے شعبہ میں مرکزی حکومت کے تین سال کا رپورٹ کارڈ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’لرننگ آؤٹ کم‘‘کو تعلیم کے حق میں شامل کرنا ہی ان کی سب سے بڑی کامیابی ہے اور سرکاری اسکولوں کے معیار کو بہتر بنانا سب سے بڑا چیلنج۔ جاوڈیکر نے بی جے پی کی انتخابی جیت کے آج تین سال پورے ہونے کے موقع پر منعقدہ پریس کانفرنس میں اپنی حکومت کے کارناموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’نوڈیٹینشن پالیسی‘‘کو ختم کرنے کے لئے بل تیار ہے اور کابینہ کی منظوری ملنے کے بعد اسے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔انہو ں نے تعلیم کے معیار کے لئے بی ایڈ کرانے والے اداروں پر لگام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے آج ایسے کھل گئے ہیں کہ ’’آج پیسہ بھرو اور کل ڈگری لو‘‘۔انہوں نے کہا کہ سال 2017-18 میں کوئی بی ایڈ کالج نہیں کھولا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سبھی ٹیچر ایجوکیشن کالجوں کومعیار کے سلسلے میں حلفنامہ بھرنے کی ہدایت دی گئی ہیں اور سات ہزار کالجوں نے حلفنامے بھرے ہیں۔جن کالجوں نے حلفنامے نہیں بھرے ہیں انہیں نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے ٹیچر ،سرپرست اور اسکول تینوں کی ذمہ داری ہے ۔اس لئے اساتذہ کے معیار کو بلند کرنے کے ساتھ ساتھ طلبہ کے لرننگ آؤٹ کم کو اب تعلیم کے حق کے قانون میں شامل کیا گیا ہے ۔ہر موضوع کے لرننگ آؤٹ کم کیا کیا ہوں گے یہ طے کیا گیا ہے اور اسے اسکولوں میں واضح طور پر بتایا  جائے گا تاکہ طلبہ جان سکیں کہ انہیں کیا کیا سیکھنا ہے اور ٹیچروں کو بھی معلوم ہو جائے کہ انہیں بچوں کو کیا کیا سکھانا ہے ۔

جاوڈیکر نے کہا کہ ملک میں 22لاکھ 24ہزار سرکاری اسکول ہیں اور ان میں 14کروڑ 31لاکھ 51ہزار بچے ہیں اور 56الاکھ 22ہزار ٹیچر ہیں۔اس کے علاوہ ایک لاکھ 26ہزار سرکاری مدد حاصل کرنے والے اسکول ہیں جن میں دوکروڑ 98لاکھ 77ہزار طلبہ اور 11لاکھ 28ہزار ٹیچر ہیں۔اس کے علاوہ چار لاکھ 52ہزار پرائیویٹ اسکول ہیں جن میں آٹھ کروڑ 75 لاکھ 69ہزار طلبہ ہیں اور 34لاکھ 36ہزار ٹیچر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں کا معیار بہتر بنانا ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ہے اور ان کی حکومت اس سمت میں کام کر رہی ہے ۔اس سلسلے میں شکشا منتھن پروگرام چلایا گیا ہے اور اب تک پانچ ورکشاپ منعقد کی گئی ہیں اور چھٹی چنڈی گھڑھ میں ہوگی۔اس کے بعد اس بارے میں تفصیلی خاکہ تیار کیا جائے گا۔یہ دریافت کئے جانے پر کہ انجینئرنگ کالجوں میں داخلے کیلئے مشترکہ امتحان کب سے شروع ہوں گے، جاوڈیکر نے کہا کہ این ای ای ٹی کے امتحان کے تجربے کا جائزہ لینے کے بعد ہی اس سمت میں قدم اٹھائے جائیں گے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ نیشنل ٹسٹنگ ایجنسی کی تجویز بھی تیار ہے ،کابینہ کی منظوری کے بعد اسے عمل میں لایا جائے گا۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں معیار کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ سال 2016-17ء میں 58ملکوں کے ماہرین نے 640 کورس کاانتظام کیا اور اب سال 2017-18 میں 800 غیر ملکی ٹیچر طلبہ کو پڑھائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT