Sunday , July 23 2017
Home / شہر کی خبریں / سرکاری اقامتی اسکولوں میں انفراسٹرکچر کی کمی ، تعلیم کا ہنوز آغاز نہیں ہوسکا

سرکاری اقامتی اسکولوں میں انفراسٹرکچر کی کمی ، تعلیم کا ہنوز آغاز نہیں ہوسکا

تعلیمی سال کے آغاز کے 8 دن بعد بھی طلباء کو کتابیں اور یونیفارم بھی سربراہ نہیں کئے گئے
حیدرآباد ۔ 20۔ جون (سیاست نیوز) ریاست میں تعلیمی سال کے آغاز کو 8 دن مکمل ہوگئے لیکن سرکاری مدارس اور حکومت کی جانب سے قائم کئے گئے اقامتی اسکولوں میں انفراسٹرکچر کی کمی کے باعث تعلیم کا آغاز نہیں ہوسکا۔ حکومت نے اقلیتوں کیلئے جاریہ تعلیمی سال سے مزید 131 اقامتی اسکولس کے قیام کا فیصلہ کیا جن میں سے 51 اقامتی اسکولوں کا افتتاح ابھی باقی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سرکاری سطح پر چلنے والے اسکولوں اور اقامتی اسکول سوسائٹی کے تحت قائم کئے جارہے اقامتی اسکولس میں طلبہ کو ابھی تک کتابیں اور یونیفارم سربراہ نہیں کئے گئے جس کے نتیجہ میں باقاعدہ طور پر تعلیم کا آغاز نہیں ہوسکا۔ حکومت نے پہلے مرحلہ میں 71 اقامتی اسکولوں کا آغاز کیا تھا جس کا ایک سال مکمل ہوچکا ہے ۔ جاریہ تعلیمی سال سے 131 اقامتی اسکولوں کے آغاز کا فیصلہ کیا گیا اور گریٹر حیدرآباد کے علاوہ اضلاع میں اسکولوں کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی ۔ بتایا جاتاہے کہ جن اسکولوں کا افتتاح عمل میں آچکا ہے ، وہاں ابھی تک یونیفارم اور کتابیں نہیں پہنچی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ عیدالفطر کے بعد باقاعدہ تعلیم کا آغاز ہوگا ۔ بتایا جاتا ہے کہ اقامتی اسکول سوسائٹی باقی اسکولوں کی افتتاحی پروگرام کی تیاری کر رہی ہے اور جاریہ ماہ کے اختتام تک تمام اسکولوں کا آغاز ہوجائے گا۔ اقامتی اسکولوں میں بنیادی سہولتوںکی فراہمی پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ تعلیمی سال کے آغاز کے بعد کتابوں اور یونیفارمس کی سربراہی میں تاخیر سے طلبہ کو مشکلات پیش آسکتی ہے۔ گزشتہ سال شروع کئے گئے اقامتی اسکولوں میں کئی اسکول ایسے ہیں جہاں صحت و صفائی اور بنیادی سہولتوں کی کمی کی شکایات ملی ہیں۔ دوسری طرف سرکاری اسکولوں کی حالت انتہائی ابتر ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سرکاری مدارس میں طلبہ کی تعداد اضافہ کیلئے حکومت نے بڈی باٹا پروگرام آغاز کیا لیکن حیدرآباد میں اس پروگرام کا کوئی خاص اثر نہیں دیکھا گیا ۔ سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولتوںکی کمی اساتذہ کی کمی اور کمتر معیار تعلیم کے سبب اقلیتیں اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں داخلہ دلانے میں پس و پیش کر رہی ہے۔ یوں تو شہر کے بیشتر سرکاری ا سکولوں کی حالت ابتر ہے اور حکومت نے طلبہ کی کمی کا بہانہ کرتے ہوئے ریاست بھر میں 400 اسکولوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اساتذہ کے باقاعدہ تقررات کے سلسلہ میں بھی حکومت سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی۔ پبلک سرویس کمیشن سے اساتذہ کے باقاعدہ تقررات کے بجائے ودیا والینٹرس کے ذریعہ کام چلایا جارہا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ سرکاری اسکولوں میں گزشتہ دو سال سے طالبات کو ڈریس سربراہ نہیں کئے گئے ۔ طالبات کو شرٹ شلوار کے بجائے اسکرٹ دیئے جانے پر طلبہ میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پرانے شہر کے کئی سرکاری مدارس ایسے ہیں جہاں طلبہ کی تعداد 150 تا 200 تک ہے لیکن اساتذہ کی تعداد صرف 4 تا 5 ہے۔ سرکاری اسکولوں کی عمارتیں خستہ حالت میں ہے اور بنیادی سہولتوں کی کمی طلبہ اور اساتذہ دونوں کیلئے تکلیف دہ بن چکی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT