Friday , June 23 2017
Home / شہر کی خبریں / سرکاری اور خانگی اسکولوں میں دوا کھانے کے بعد بچے بیمار ، سرپرستوں کا احتجاج

سرکاری اور خانگی اسکولوں میں دوا کھانے کے بعد بچے بیمار ، سرپرستوں کا احتجاج

حکومت کی سربراہ کردہ دوا بچوں کی پیٹ کی بیماریاں دور کرنے کا دعویٰ تنازعہ کا شکار
حیدرآباد۔ 14 فروری (سیاست نیوز) حیدرآباد کے سرکاری اور خانگی اسکولوں میں حکومت کی جانب سے سربراہ کی جانے والی ایک دوا اِن دنوں تنازعہ کا سبب بن چکی ہے۔ کئی اسکولوں میں والدین کی اجازت کے بغیر بچوں کو یہ دوا دی گئی جس سے ان کی طبیعت بگڑنے کی شکایات کے بعد کئی اسکولوں میں سرپرستوں نے احتجاج منظم کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے بچوں کے پیٹ کی صفائی اور خاص طور پر کیچوے کی شکایت دُور کرنے کیلئے باقاعدہ قومی سطح پر مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔ یوں تو سابق میں بھی اس طرح کی ادویات سرکاری اسکولوں کے طلبہ میں تقسیم کی جاتی رہیں لیکن گزشتہ دو برسوں سے اسے باقاعدہ منظم تحریک کی شکل دی گئی۔ ’’نیشنل ڈی وارمنگ ڈے‘‘ کے طور پر ہر سال 10 فروری اور 10 اگست کو منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ تلنگانہ حکومت نے تمام اضلاع میں اس مہم کی کامیابی کیلئے محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کو باقاعدہ ٹریننگ دی اور انہیں پابند کیا تھا کہ ہر خانگی، سرکاری اور آنگن واڑی اسکولوں میں اس مہم کو کامیاب بنایا جائے۔ حکومت کی جانب سے اس کے لئے جو دوائی سربراہ کی جارہی ہے وہ ایک گولی (Tablet) کی شکل میں ہے۔ 400 mg Albendazole کی یہ گولی ہر طالب علم کو دی جارہی ہے جس سے حکومت کے دعویٰ کے مطابق بچوں میں پیٹ کی بیماریاں دور ہوتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس مہم پر عمل آوری کے سلسلے میں اسکولوں کے انتظامیہ نے والدین کو اعتماد میں نہیں لیا اور نہ ہی اس کی قبل از وقت اطلاع دی۔ مہم کے طریقہ کار کے مطابق ایک دن قبل طلبہ کو اس کی اطلاع دی جاتی ہے کہ وہ والدین کو دوا کھلانے سے واقف کرائیں اور جو والدین رضامندی ظاہر کریں، صرف انہیں طلبہ کو دوا دی جانی ہے، لیکن بیشتر اسکولوں نے اس شرط کی تکمیل نہیں کی جس کے باعث کئی طلبہ اس دوائی کے استعمال کے ساتھ ہی متلی، قئے اور پیٹ میں درد کی شکایت کرنے لگے۔ عنبرپیٹ کے ایک اسکول میں طلبہ کی طبیعت بگڑنے کے بعد وہاں سرپرستوں نے پہنچ کر احتجاج منظم کیا۔ سوشیل میڈیا میں اِن دنوں کیرالا میں مسلم بچوں کو نامعلوم نقصان دہ دوا دیئے جانے کی اطلاعات کے بعد شہر کے عوام میں بھی تشویش پائی جاتی ہے، ایسے میں اسکولوں میں اچانک اس دوائی کی تقسیم نے تشویش میں مزید اضافہ کردیا۔ اس سلسلے میں جب ڈاکٹرس سے ربط کیا گیا تو ان کا کہنا ہے کہ عام طور پر بچوں میں مٹی یا دیگر اشیاء کے استعمال سے پیٹ میں کیچوے پیدا ہوجاتے ہیں۔ اس عارضہ کے لئے یہ دوائی دی جاتی ہے۔ ایک تا 2 سال کے بچوں کو آدھی اور 2 تا 19 سال تک ایک گولی دی جاتی ہے۔ چھ ماہ کے وقفہ سے صرف دو مرتبہ یہ دوائی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ حکومت نے فروری اور اگست میں یہ مہم مقرر کی ہے۔ ڈاکٹرس نے بتایا کہ ایسے طلبہ جو پہلے ہی یہ دوائی استعمال کرچکے ہیں، ان کے لئے یہ ’’اوور ڈوز‘‘ ہوجائے گا اور انہیں متلی، قئے اور پیٹ میں درد کی شکایت ہوسکتی ہے، لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اسکول انتظامیہ ہر طالب علم کو لازمی طور پر دوا دینے کے بجائے والدین سے رضامندی حاصل کرلیں۔ شہر کے کئی خانگی اسکولوں میں والدین نے پہنچ کر انتظامیہ سے دوائی کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا جس پر انتظامیہ نے سرکاری دوا قبول کرنے سے انکار کردیا اور کئی اسکولوں میں یہ مہم کامیاب نہ ہوسکی۔ حکومت یہ دوائی مفت سربراہ کرتی ہے، جسے بچوں کو چوس کر کھانا پڑتا ہے۔ سرپرستوں کی شکایت ہے کہ دوائی کے استعمال کے بعد طلبہ نے پیٹ میں درد اور متلی کی شکایت کی ہے اور انہیں ڈاکٹرس سے رجوع کرنا پڑا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب یہ دوائی ہر طالب علم کے لئے لازمی ضروری نہیں ہے اور والدین کی رضامندی کے بغیر استعمال نہیں کیا جاسکتا تو پھر اسکول انتظامیہ کو احتیاط کرنی چاہئے۔ بعض غیراقلیتی خانگی اسکولوں سے یہ شکایت ملی ہے کہ انتظامیہ نے صرف اقلیتی طلبہ کو یہ گولی کھلائی۔ سرپرستوں میں پھیلی بے چینی کو دیکھتے ہوئے کئی خانگی اسکولوں نے حکومت کی دوائی کو حاصل تو کرلیا لیکن انہیں تقسیم نہیں کیا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT