Wednesday , August 23 2017
Home / ہندوستان / سرکاری بینک کے قرضداروں کو بے نقاب کیا جائے

سرکاری بینک کے قرضداروں کو بے نقاب کیا جائے

ملک کے مفاد میں کام کرنے آر بی آئی کو سپریم کورٹ کا مشورہ
نئی دہلی۔24 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ملک بھر میں تقریباً 57 قرضدار سرکاری بینکوں کو 85 ہزار کروڑ کے قرضے واجب الادا ہیں جن کے نام قرض نادہندگان کی فہرست شامل ہیں۔ سپریم کورٹ میں ریزروبینک آف انڈیا نے ان افراد کے بارے میں ایک رپورٹ پیش کی ہے جنہوں نے 500 کروڑ سے زائد کی رقم بطور قرض حاصل کیا لیکن واپس کرنے میں ناکام ہوگئے۔ عدالت نے مرکزی بینک سے سوال کیا کہ قرضداروں کے ناموں کا انکشاف کیوں نہیں کیا جاسکتا۔ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی زیر قیادت بنچ نے دریافت کیا کہ وہ لوگ کون ہیں جنہوں نے بھاری قرضے حاصل کئے لیکن باز ادائیگی سے مکر گئے اور ان لوگوں کی تفصیلات عوام سے پوشیدہ کیوں رکھی گئی ہے۔ جسٹس ڈی وائی چندرا چوڈ اور جسٹس ناگیشور رائو پر مشتمل بنچ نے کہا کہ اگر قرض کی رقم 500 کروڑ سے کم ہو تو نادہندہ کی رقم ایک لاکھ کروڑ سے متجاوز کر جائے گی۔ ریزرو بینک سے یہ دریافت کیا گیا کہ اگر کوئی شخص قانون حق معلومات کے تحت جانکاری طلب کرے گا تو کیا کریں گے کیوں کہ عوام کو اس قانون کے تحت معلومات حاصل کرنے کا حق ہے ایسے میں قرض نادہندگان کی کب تک پردہ پوشی کی جائے گی۔ تاہم او بی آئی کے نمائندہ وکیل نے مذکورہ تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ تمام نادہندگان عملاً قرض ادا نہیں کرتے بلکہ حالات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ جبکہ مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ وہ بینک کے مفاد میں کام کررہا ہے اور نادہندگان کے نام ان کے رتبہ اور حیثیت کی بناء منظر عام پر نہیں لیا جاسکتا جس پر بنچ نے کہا کہ ہمیں (آر بی آئی) بینک کے مفادات کی بجائے ملک کے مفاد میں کام کرنا چاہئے۔ اس موقع پر ایک غیر سرکاری تنظیم سنٹر فار پبلک انٹرسٹ لٹیگیشن کے ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن نے قرضوں کی واجب الادا رقومات کے انکشاف کی پرزور وکالت کی اور ڈسمبر 2015ء کے عدالت العالیہ کے فیصلہ کا حوالہ دیا جس میں آر بی آئی کو مطلوب اطلاعات فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ بعدازاں بنچ نے نادہندگان کے ناموں کے انکشاف کے معاملہ پر سماعت کو 28 نومبر تک ملتوی کردیا۔

TOPPOPULARRECENT