Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / سرکاری دفاتر میں پارکنگ فیس وصولی،جی ایچ ایم سی کی خاموشی ، تجارتی لائسنسوں کی اجرائی سے گریز

سرکاری دفاتر میں پارکنگ فیس وصولی،جی ایچ ایم سی کی خاموشی ، تجارتی لائسنسوں کی اجرائی سے گریز

حیدرآباد۔15ستمبر(سیاست نیوز) سرکاری دفاتر میں پارکنگ کیلئے فیس کی وصولی کے باوجود مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں کی خاموشی باعث حیرت ہے۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے پارکنگ کی جگہ نہ رکھنے والے تجارتی اداروں کو تجارتی لائسنس کی اجرائی عمل میں لانے سے گریز کیا جا رہا ہے اور پارکنگ فیس کی وصولی پر امتناع عائد کیا جا چکا ہے لیکن شہر میں موجود سرکاری دفاتر میں پارکنگ کی جگہ نہ ہونے کے باوجود ان دفاتر کیلئے کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ کئی سرکاری دفاتر اور دواخانوں میں باضابطہ پارکنگ فیس وصول کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ پارکنگ فیس وصول کرنے کے مجاز ہیں ۔ بیگم پیٹ پاسپورٹ سیوا کیندر میں جہاں پاسپورٹ کی اجرائی کے عمل کو اس حد تک بہتر بنایا گیا ہے کہ عوام وزارت خارجہ کے اقدمات کی ستائش کر رہے ہیں وہیں انہیں اس سیوا کیندر پہنچنے کے بعد بھاری فیس ادا کرتے ہوئے خانگی پارکنگ استعمال کرنی پڑتی ہے اسی طرح سرکاری دواخانوں کی بھی صورتحال ہے اور سرکاری دواخانوں میں بھی من مانی پارکنگ فیس وصو ل کی جا رہی ہے جبکہ مجلس بلدیہ عظیم ترحیدرآباد کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ شہری حدود میں کوئی پیڈ پارکنگ کا سسٹم باقی نہیں رکھا گیا ہے بلکہ جن مقامات پر بلدیہ کی پیڈ پارکنگ اب تک باقی ہے ان مقامات پر بلدی عملہ کو متعین کیا گیا ہے تاکہ کوئی پارکنگ مافیا اس کا ناجائز استعمال نہ کرسکے۔ سرکاری دفاتر اور سرکاری دواخانوں میں مفت پارکنگ کے لئے مسلسل احتجاج کے بعد مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ شہر میں ہر جگہ بلدیہ کی جانب سے مفت پارکنگ کی فراہمی کو ممکن بنایا جائے گا۔سرکاری دفاتر اور سرکاری دواخانو ںمیں مفت پارکنگ کی سہولت کو ممکن بنانے کے اقدامات میں بلدی عہدیداروں کو کوئی مشکلات پیش نہیں آتی لیکن اس کے باوجود ان دفاتر اور دواخانو ںمیں بھی پارکنگ مافیا سرگرم ہے اور ان دفاتراور دواخانوں کو پہنچنے والوں سے من مانی پارکنگ فیس وصول کی جارہی ہے۔ جی ایچ ایم سی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر عوامی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے غیر مجاز افراد پارکنگ کی جگہ کا استعمال کر رہے ہیں اور انہیں بلدیہ نے کوئی فیس کی وصولی کی اجازت فراہم نہیں کی ہے ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ سرکاری عمارتوں‘ دفاتر اور دواخانوں میں اگر پارکنگ فیس کی وصولی کی شکایات موصول ہوتی ہیں تو ایسی صورت میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے فوری کاروائی کی جائے گی۔ گاندھی اور عثمانیہ ہاسپٹل کے علاوہ شہر کے دیگر سرکاری دواخانوں میں بھی پارکنگ فیس وصول کرنے کی شکایات موصول ہورہی ہیں اور پارکنگ کرنے والوں سے ٹکٹ اور پیسے وصول کرلئے جانے کے سبب پارکنگ مافیا کا شکار افراد شکایت کیلئے بھی کسی سے رجوع نہیں ہو سکتے۔

TOPPOPULARRECENT