Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / سرکاری دواخانوں میں شلٹرس ضروری

سرکاری دواخانوں میں شلٹرس ضروری

مریضوں کے رشتہ داروں کا کوئی پرسان حال نہیں
حیدرآباد ۔ 5 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : سرکاری دواخانوں میں زیر علاج مریضوں کے تیمار داروں اور عزیز و اقارب کے لیے کہیں کوئی ایسے باقاعدہ سائبان نہیں ہیں جہاں وہ بیٹھ سکیں اور آرام کرسکیں ۔ درختوں کے سائے میں پارکنگ علاقوں میں ورانڈوں میں جہاں آسرا ہو یا چھاؤں دکھائی دے تیمار دار رشتہ دار بیٹھ جاتے ہیں یا لیٹ جاتے ہیں ۔ گاندھی ہاسپٹل اور دوسرے سرکاری دواخانوں میں مریضوں کے رشتہ دار کوئی سایہ نہ ملنے پر شدید دھوپ کا سامنا کررہے ہیں ۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے گاندھی ہاسپٹل میں نائٹ شلٹر تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا تھا جس پر ہنوز کوئی عمل نہیں ہوا ہے ۔ دوسرے سرکاری دواخانوں میں بھی کہیں کوئی نائٹ شلٹرس تعمیر نہیں کئے گئے ہیں ۔ 2014 میں جی ایچ ایم سی نے عثمانیہ ہاسپٹل ، ای این ٹی ہاسپٹل کوٹھی ، میٹرنٹی ہاسپٹل نزد سٹی کالج پیٹلہ برج اور گاندھی ہاسپٹل میں شلٹرس تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا تھا ۔ لیکن کسی ایک سرکاری دواخانہ میں بھی ہنوز شلٹر تعمیر نہیں کیا گیا ہے ۔ جی ایچ ایم سی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ہاسپٹلس نے اراضی فراہم کرنے سے انکار کیا ہے ۔ ایک محتاط انداز کے مطابق تمام سرکاری دواخانوں میں سات ہزار تیمار دار رشتہ دار زیر سماں سونے پر مجبور ہیں عام طور پر ان افراد کا تعلق اضلاع سے ہے جو مریضوں کے ساتھ شہر آتے ہیں ۔ نمس میں مریضوں کے رشتہ داروں کے لیے ایک کوارٹر الاٹ کیا گیا لیکن ارکان اسٹاف نے کوارٹر خالی کرنے سے انکار کردیا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT