Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / سرکاری دواخانوں میں عملہ کی قلت ، مریضوں کو مشکلات

سرکاری دواخانوں میں عملہ کی قلت ، مریضوں کو مشکلات

صورتحال ابتر ، عملہ کے تقررات کا بارہا اعلان ، عمل ندارد
حیدرآباد۔21اگسٹ (سیاست نیوز) شہر کے سرکاری دواخانوں میں عملہ کی قلت کے باعث نہ صرف غریب شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بلکہ سرکاری دواخانوں میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرس اور عملہ کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دونوں شہروں میں موجود تمام سرکاری دواخانوں میں ڈاکٹرس کے علاوہ عملہ و دیگر ملازمین کی قلت کو دور کرنے کے بعد ہی سرکاری دواخانوں کی صورتحال میں بہتری ممکن ہے۔ سرکاری دواخانوں میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ عملہ کی قلت کے سبب دواخانہ سے رجوع ہونے والے مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ دواخانہ کے ذمہ داروں کو بھی عوامی برہمی کا سامنا ہوتا ہے اور لوگ ڈاکٹرس کے رویہ کے سبب انہیں اپنا ہمدرد نہیں بلکہ دشمن تصور کرنے لگتے ہیں۔ دواخانہ عثمانیہ ‘زچگی خانہ پیٹلہ برج‘ گاندھی ہاسپٹل‘ کنگ کوٹھی ہاسپٹل کے علاوہ زچگی خانہ سلطان بازار میں بھی عملہ اور ڈاکٹرس کی قلت کے سبب ان سرکاری دواخانوں کی صورتحال انتہائی ابترہوتی جا رہی ہے کیونکہ شہر میں موجود ان دواخانو ںمیں مریضوں کی تعداد کافی زیادہ ہے اور نرسنگ عملہ اور ڈاکٹرس کی قلت کے سبب ان پر توجہ دینا دشوار ہوتا ہے لیکن ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری بخوبی نبھانے کیلئے کوشش کرتے ہیں لیکن مریضوں کی اضافی تعداد کے سبب ہر مریض پر خصوصی توجہ دی جانا ممکن نہیں ہوتا اسی لئے شہر میں موجود دواخانوں میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرس اور نرسنگ عملہ سے رجوع ہونے والوں کو ہمیشہ شکایات رہتی ہیں۔ شہر کے سرکردہ سرکاری دواخانہ میں خدمات انجام دینے والے سینیئر ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ حکومت اور میڈیکل کونسل آف انڈیا کی جانب سے خانگی دواخانوں پر جو شرائط کا اطلاق کیا جاتا ہے اسی طرح کے شرائط و قواعد کے اطلاق کو ممکن بناتے ہوئے سرکاری دواخانو ں کی حالت کو بھی بہتر بنایا جاسکتا ہے کیونکہ شرائط میں اولین شرط عملہ کی تعداد ہوتی ہے جس میں ڈاکٹر س اور طبی عملہ کے علاوہ غیر طبی عملہ کی مجموعی تعداد ہوتی ہے لیکن سرکاری دواخانو ں میں خدمات انجام دینے والے عملہ کی تعداد میں ہمیشہ ہی قلت دیکھی جاتی رہی ہے اور متعدد مرتبہ حکومت اور محکمہ کو متوجہ کروانے کے باوجود بھی اس مسئلہ کی عدم یکسوئی کے سبب دواخانہ کے انتظامیہ اور مریضوں کو مشکلات کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ڈاکٹرس نے بتایا کہ شہر کے تمام دواخانو ںمیں ڈاکٹرس اور طبی عملہ اپنی ذمہ دایوں سے زیادہ خدمات انجام دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں عوامی برہمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی بنیادی وجہ ہر مریض پر شخصی توجہ نہیں دیا جارہا ہے جس کے باعث عملہ اور ڈاکٹرس کے پاس وقت کی کمی ہے۔ عثمانیہ ‘ گاندھی یا زچگی خانہ ہی نہیں بلکہ نیلوفر اور فیور ہاسپٹل میں بھی عملہ کی قلت کی وجہ سے ڈاکٹرس اور عملہ کو مشکلات کاسامنا ہوتا ہے ۔ حکومت بھی اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ ریاست کے سرکاری دواخانو ںبالخصوص شہری علاقو ںمیں خدمات انجام دینے والے دواخانو ںمیں عملہ کی قلت ہے اور اس قلت کو دور کرنے کا متعدد مرتبہ تیقن دیا جا چکا ہے لیکن عملی اقدامات نہ کئے جانے کے سبب صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT