Monday , March 27 2017
Home / شہر کی خبریں / سرکاری دواخانوں میں مریضوں کا کوئی پرسان حال نہیں

سرکاری دواخانوں میں مریضوں کا کوئی پرسان حال نہیں

رشوت کا چلن عام ہوگیا، حکومت کے متعدد اعلانات اکارت ثابت
حیدرآباد۔19مارچ(سیاست نیوز) سرکاری دواخانوں میں جاری رشوت کے چلن کے سبب سرکاری دواخانوں کی حالت بتدریج ابتر ہوتی جا رہی ہے اور سرکاری دواخانو ںمیں مریضوں کو ہونے والی مشکلات کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے معیاری علاج و معالجہ کی سہولت کے اعلانات کے باوجود شہر کے سرکاری دواخانو ںمیں حالات انتہائی نا گفتہ بہ ہیں اور ان حالات کے منظر عام پر آنے کے باوجود بھی حکام کی لاپرواہی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شہر میں محکمہ صحت پر کسی کو کنٹرول کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ ریاستی حکومت کے تحت چلائے جانے والے دواخانو ںمیں رشوت کے چلن کے متعلق عہدیدارو ںکا کہنا ہے کہ جن لوگوں کی آؤٹ سورسنگ پر خدمات حاصل کی جاتی ہیں وہ لوگ اس طرح کی حرکات میں ملوث ہوتے ہیں جبکہ دواخانو ںمیں سیکیوریٹی پر معمور عملہ کی جانب سے یہ ادعا کیا جاتا ہے کہ تقسیم کا عمل اوپر تک ہوتا ہے لیکن خدمات انجام دینے والے چند دیانتدار اور فرض شناس ڈاکٹرس بھی ہیں جو اس طرح کی حرکات کی شدید مذمت کرتے ہیں ۔ دواخانوں میں رشوت کے معاملات کے حالیہ عرصہ میں جو واقعات منظر عام پر اائے ہیں وہ دل دہلا دینے والے ہیں۔ چیسٹ ہاسپٹل میں زیر علاج 30سالہ نوجوان مریض کرشنیا جو دواخانہ کے ملاز م کی جانب سے طلب کردہ رشوت کی رقم دینے سے قاصر رہا وہ اپنی جان گنوا بیٹھا اور اس کے لواحقین نے بتایا کہ آکسیجن سلینڈر کے لئے طلب کی گئی رشوت کی ادائیگی کے وہ موقف میں نہیں تھے جس کے سبب نوجوان مریض کوبروقت آکسیجن نہیں لگایا گیا جس کے سبب وہ فوت ہوگیا ۔13مارچ کو پیش آئے اس واقعہ میں وارڈ بوائے کو معطل کرتے ہوئے یہ ظاہر کیا گیا کہ رشوت طلب کرنے والے کے خلاف کاروائی کردی گئی ہے لیکن اس کے4 دن نہیں گذرے تھے کہ ایک اور واقعہ نے سرکاری دواخانہ میں خدمات انجام دے رہے عملہ کے رویہ کی اور بدترین مثال منظر عام پر آئی اور شہر کے سرکردہ سرکاری دواخانہ گاندھی ہاسپٹل میں ایک مریض بچوں کے کھیلنے کی سائیکل کے ساتھ پہنچا اور اس پر بیٹھ کر آگے بڑھنے لگا۔دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ وہ جب کبھی دواخانہ سے رجوع ہوتا ہے اسے وہیل چئیر کے لئے 150روپئے کی رشوت ادا کرنی پڑ رہی تھی اسی لئے اس نے یہ طریقہ کار اختیار کیا کیونکہ وہ وہیل چئیر کے لئے 150روپئے ادا کرنے کے موقف میں نہیں ہے۔سرکاری دواخانو ںمیں اس طرح کے کئی واقعات پیش آتے رہتے ہیں لیکن ان واقعات پر کاروائی نہیں ہو پاتی کیونکہ ان غریب عوام کیلئے جو سرکاری دواخانوں میں علاج کے لئے رجوع ہوتے ہیں ان کیلئے آواز اٹھانے والا کوئی نہیں ہے۔دونوں شہروں میں موجود سرکاری دواخانوں میں ہر قدم پر رشوت کے چلن کی شکایات موصول ہونے لگی ہیں اسی لئے یہ ضروری ہے کہ سرکاری دواخانہ میں خدمات انجام دے رہے عملہ کو سخت انتباہ دیتے ہوئے ان کے خلاف کاروائی کی جائے کیونکہ جو لوگ سرکاری دواخانہ کے عملہ کے رویہ سے عاجز آتے ہیں وہ اگر برہمی کے عالم میں کوئی حرکت کردیتے ہیں تو ان کے خلاف کاروائی کے لئے کئی دفعات ہیں اور جگہ جگہ اس کی تشہیر کے ذریعہ عوام میں خوف پیدا کیا جا رہا ہے ۔ لیکن بدعنوان عملہ کو رشوت طلب کرنے میں کوئی خوف و خطرہ نہیں ہے کیونکہ اسے یقین ہو چلا ہے کہ اس کے خلاف کوئی شکایت نہیں کرے گا اور نہ ہی شکایت کنندہ کی شکایت پر کوئی کاروائی کی جائے گی ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT