Wednesday , August 23 2017
Home / اضلاع کی خبریں / سرکاری فوائد حاصل کرنے میں مسلمانوں کا تناسب بہت کم

سرکاری فوائد حاصل کرنے میں مسلمانوں کا تناسب بہت کم

سنگاریڈی میں ضلع کلکٹر کا اعتراف ، یوم اقلیتی بہبود و قومی یوم تعلیم کا انعقاد، مولانا آزاد کو خراج

سنگاریڈی۔ 12 نومبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) امام الہند ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کے 127 ویں یوم پیدائش کے موقع پر محکمہ اقلیتی بہبود اور سروا سکھشا ابھیان ضلع میدک نے آج دوپہر آڈیٹوریم جدید کلکٹریٹ سنگاریڈی میں مشترکہ طور پر ’’یوم اقلیتی بہبود‘‘ و یوم قومی تعلیم‘‘ کا اہتمام محترمہ یاسمین باشاہ پروجیکٹ آفیسر سروا سکھشا ابھیان ضلع میدک کی زیرصدارت اور جناب سید احمد علی انچارج ڈسٹرکٹ مائناریٹی ویلفیر آفیسر ضلع میدک کی زیرنگرانی کیا گیا جس میں چنتا پربھاکر رکن اسمبلی سنگاریڈی اور ڈی رونالڈ روز کلکٹر ضلع میدک نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔ قبل ازیں آئی بی گیسٹ ہاؤز، سنگاریڈی تا کلکٹریٹ ریالی منظم کی گئی جس کا افتتاح وینکٹ رام ریڈی ضلع جوائنٹ کلکٹر نے آئی بی گیسٹ ہلاؤز سنگاریڈی ہری جھنڈی دکھاکر کیا۔ چنتا پربھاکر رکن اسمبلی سنگاریڈی نے جلسہ یوم اقلیتی بہبود قومی یوم تعلیم سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ابوالکلام آزاد کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ہمارے اجداد نے اس ملک کی بنیاد سیکولرازم، بھائی چارگی، رواداری اور باہمی اتحاد کی بنیاد پر رکھا اور ملک کا دستور بھی ان ہی اقدار کو ملحوظ رکھتے ہوئے تدوین کیا گیا۔ ہمارے قائدین نے ملک کی تحریک آزادی کے دوران ہمیں آپسی بھائی چارگی، اتحاد و اتفاق اور رواداری کا جو پیغام دیا تھا، آج اس پر عمل کرنے کی شدید ضرورت ہے ۔ ایک دوسرے کو سمجھنے اور برداشت کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے سے ہی انفرادی، سماجی اور قومی ترقی ممکن ہے۔ ڈی رونالڈ روز ضلع کلکٹر میدک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد نے جدوجہد آزادی میں کلیدی رول ادا کیا اور ملک کے پہلے وزیر تعلیم کی حیثیت سے انہوں نے جو تعلیمی نظام رائج کروایا اور تعلیم کو عام کرنے کیلئے جو خدمات انجام دیں، اس مناسبت سے قومی یوم تعلیم اور اقلیتوں کے مسائل کی یکسوئی ان کی ترقی اور فلاح و بہبود کیلئے جو کام کیا ہے، اس کے اعتبار سے یوم اقلیتی بہبود کا انعقاد حق اور جائز ہے۔ کلکٹر ضلع میدک نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد قومی قائد ہیں۔ انہوں نے خطاب میں کہا کہ ضلع میدک میں مسلمانوں کی کثیر آبادی ہے۔ اس کے باوجود حکومت کی اسکیموں سے استفادہ کا تناسب کم ہے۔ مسلمان حکومت کی اسکیموں سے بھرپور استفادہ کرنے میں آخر کیوں کر ناکام ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ دریافت کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کی فلاحی و ترقیاتی اسکیموں کے فوائد کو ہر غریب کے گھر کی دہلیز پر پہنچانے کی ضرورت ہے اور اس کام میں عوام کا تعاون ناگزیر ہے۔ جاریہ مالیتی سال کے دوران ضلع میدک میں شادی مبارک اسکیم کیلئے 2,228 درخواستیں وصول ہوئیں جوکہ کم ہیں۔ کم از کم 10 ہزار درخواستیں وصول ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکیموں سے متعلق عوامی شعور بیداری کیلئے عہدیداروں اور مسلمانوں، سماجی، مذہبی، ملی تنظیموں اور سماجی کارکنوں کے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ محترمہ شیخ یاسمین باشاہ پراجیکٹ آفیسر ایس ایس اے ضلع میدک نے کہا کہ اقلیتیں اپنے حق کو مانگیں اور اس کا صحیح استعمال کرتے ہوئے ترقی کی منازل طئے کریں۔ حکومت کے پاس اقلیتوں کیلئے کئی اسکیمیں موجود ہیں۔ اس سے استفادہ کی ضرورت ہے۔ سید احمد علی انچارج ڈسٹرکٹ مائناریٹی ویلفیر آفیسر نے کہا کہ حکومت کی اسکیموں سے عوام کو واقف کروانے وہ خود ضلع کے تمام منڈلوں کا دورہ کررہے ہیں۔ جلسہ کو ایم اے حکیم سابق نائب صدر اُردو اکیڈیمی، ایم اے سلام معاون مائناریٹی رائیٹس پروٹیکشن کمیٹی ضلع میدک، قدوس قریشی، اقبال علی ظفر ایڈوکیٹ، عائشہ بیگم لیکچرر نے مخاطب کیا جبکہ سیف الدین غوری سیف نے تلنگانہ پر نظم پیش کی۔ جلسہ کا آغاز کمسن طالبات کے ترانہ اقبال سے ہوا۔ جلسہ کی نظامت محمد ریاض احمد خاں مدرسہ کوآرڈینیٹر سروا سکھشا ابھیان نے بحسن و خوبی کی۔ قومی یوم تعلیم و یوم اقلیتی بہبود کے موقع پر ضلع کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والی مسلم شخصیات کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں سروا سکھشا ابھیان کی جانب سے ضلع سطح کے ایوارڈس پیش کئے گئے۔ مختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والی شخصیات اُردو اساتذہ و لیکچررس کو ملاکر جملہ 47 ایوارڈس دیئے گئے جبکہ 18 طلباء و طالبات کو بھی انعامات دیئے گئے۔ چنتا پربھاکر رکن اسمبلی سنگاریڈی، رونالڈ روز کلکٹر ضلع میدک، شیخ یاسمین باشا پراجیکٹ آفیسر، سید احمد علی انچارج ڈسٹرکٹ مائناریٹی ویلفیر آفیسر نے ایوارڈس پیش کئے۔ فروغ اردو کے لئے سید مسکین احمد سدی پیٹ اور امجد محی الدین کو ایوارڈ دیا گیا۔ شعبہ صحافت اُردو میں ایم اے خالق حسینی روزنامہ سیاست، ایم اے رفیق نوری روزنامہ منصف، مسعود امتیاز احمد خاں روزنامہ راشٹریہ سہارا سنگاریڈی کے علاوہ رشید جنید کو ان کی دیرینہ خدمات پر ڈسٹرکٹ ایوارڈ دیا گیا۔ مصنفین کے زمرہ میں قدوس قریشی، ماہرین تعلیم شعبہ میں محترمہ پروین خلیل شعراء کے زمرہ میں سیف الدین غوری، سیف ظہیرآباد، لطیف آرزو کوہیر، فیاض علی سکندر سداسیو پیٹ، فنکار شعبہ میں شاہ محمد عزیز خاں خسرو صحوی غوثوی کو فن قوالی کی خدمات اور فروغ کے لئے اُردو اسکالر کے طور پر ڈاکٹر ظفر اقبال اقلیتی حقوق کے جہد کاروں کے طور پر اقبال علی ظفر ایڈوکیٹ نرساپور، محمد خواجہ معین میدک، ایم جی انور سنگاریڈی، رافع التمش سداسیوپیٹ کو ایوارڈ دیا گیا۔ اُردو لیکچررس میں سمیرہ نازنین انچارج پرنسپل گورنمنٹ ویمنس ڈگری کالج سنگاریڈی، محمد اسلم نذیر پرنسپل اقلیتی اقامتی ہائی اسکول کاشی پور، عائشہ بیگم اُردو لیکچرر ڈگری کالج ظہیرآباد اور اے آر غزالہ لیکچرر جونیر کالج نرساپور بہترین نظمائے مدرسہ کے طور پر ایم اے رشید گجویل، مفتی محمد اسلم سلطان قاسمی ناظم مدرسہ عربیہ نعمانیہ سنگاریڈی، صوفی ماجد پاشاہ قادری شطاری ناظم مدرسہ دارالعلوم انوار ذاکر پداپور، بانی اُردو ریسورس پرسن کے طور پر ایم جی مصطفی، ایم اے کریم، محمد ساجد علی، شفیع احمد، ریاض احمد خاں مدرسہ ودیا والینٹرس کے زمرہ میں بشریٰ یاسمین کے جی بی وی ٹیچرس زمرہ میں زیب النساء اور ام کلثوم جبکہ ٹیچرس کے زمرہ میں اسماء خانم، محمد ایوب، ایم اے فہیم، سید بدرالدجی قادری، عبیدہ بیگم، شمیم سلطانہ، سعدیہ ثمین، شیخ احمد علی، محمد خواجہ معین الدین، ایم اے نبی، بی بی فاطمہ، محمد بشیر کوہیر اور شبانہ بیگم کو ڈسٹرکٹ لیول ایوارڈ جوکہ توصیف نامہ، شال اور مومنٹو پر مشتمل تھا، پیش کیا گیا۔ سروا سکھشا ابھیان کی جانب سے ایوارڈ یافتگان کو بہترین دیدہ زیب خصوصی طور پر تیار کردہ مومنٹو اور سرٹیفکیٹس دیئے گئے جس کی عمومی طور پر زبردست ستائش کی گئی۔

TOPPOPULARRECENT