Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / سرکاری محکموں میں بدعنوانیوں کی معلومات کا حصول مشکل

سرکاری محکموں میں بدعنوانیوں کی معلومات کا حصول مشکل

درخواستوں کو خاطر میں نہ لانا ، جواب دینے سے گریز ، عہدیداروں کا رویہ تکلیف دہ
حیدرآباد ۔ 10مئی (سیاست نیوز) حکومت نے قانون حق آگہی کو روشناس کرواتے ہوئے بدعنوانیوں و بے قاعدگیوں کے خاتمہ کو یقینی بنانے کی کوشش کی تھی لیکن بدعنوان و چالاک عہدیدار اس قانون کے ساتھ بھی کھلواڑ کرنے لگے ہیں اور قانون حق آگہی کے تحت موصول ہونے والی درخواستوں کی یکسوئی کے بجائے اطلاعات و معلومات کی فراہمی سے بچنے کی تدابیر اختیار کی جانے لگی ہیں جو کہ قانون حق آگہی کے تحت معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرنے والوں کو مایوس کر رہی ہیں۔ ریاست کے کئی محکمہ جات بشمول بلدی نظم ونسق ‘ محکمہ آبرسانی ‘ محکمہ برقی ‘ محکمہ اقلیتی بہبود و دیگر کی صورتحال اس معاملہ میں یکساں ہے بسا اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریا ست کے سرکاری محکموں میں پبلک انفارمیشن آفیسر کے عہدے پر خدمات انجام دینے والے تمام عہدیداروں کی اس معاملہ میں اچھی تربیت کی گئی ہے۔ بیشتر محکموں میں بدعنوانیوں کے متعلق معلومات کے حصول کے لئے داخل کی جانے والی درخواستوں کو تو خاطر میں نہیں لایا جاتا بلکہ ان درخواستوں کا مناسب جواب تک دینا گوارہ نہیں کیا جاتا بلکہ یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ قانون کی فلاں شق کے مطابق یہ جواب دیا جانا ضروری نہیں ہے یا پھر تفصیلات کی فراہمی کے لئے اتنی رقم جمع کروانے کیلئے کہا جاتا ہے کہ عام آدمی کے لئے یہ رقم جمع کروانا مشکل ہو جائے اور وہ تفصیلات کے حصول کے لئے دوبارہ رجوع ہی نہ ہو۔ محکمہ اقلیتی بہبود اور محکمہ آبرسانی کی کئی ایسی مثالیں منظر عام پر آچکی ہیں لیکن اس کے باوجود کوئی کاروائی ہوتی نظر نہیں آرہی ہے اور یہ وباء دیگر محکمہ جات میں بھی نظر آنے لگی ہے۔ قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی جس کا قیام پرانے شہر کی ترقی کیلئے عمل میں لایا گیا تھا اس اتھاریٹی کی کارکردگی اور یہاں جاری بد عنوانیوں کو منظر عام پر لانے کی کوشش کرنے پر معلومات تو فراہم نہیں کی جا رہی ہیں بلکہ جو عہدیدار ان بدعنوانیوں کے منظر عام پر آنے سے پھنس سکتے ہیں انہیں چوکنا کیا جارہا ہے۔ اسی طرح محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے بھی قانون حق آگہی کے تحت وصول ہونے والی درخواستوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے یا پھر یہ جواب دیا جا رہا ہے کہ درخواست بغرض جائزہ متعلقہ شعبہ کو روانہ کر دی گئی ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود میںداخل کی گئی تقررات کے متعلق بعض درخواستوں پر جواب دینے سے گریز کیا جا رہا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ محکمہ بلدی نظم و نسق کی صورتحال بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ اتنا ہی نہیں محکمہ اقلیتی بہبود میں مرکزی حکومت کے فنڈس کے استعمال کے متعلق تفصیلی آگہی کے لئے داخل کردہ درخواست کو بھی نظر انداز کردیا گیا ہے۔قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی جو کہ شہر کی ترقی کیلئے قائم کی گئی ہے لیکن اس ادارے سے جو لوگ مستفید ہو رہے ہیں ان کی طویل فہرست ہے جو کہ ایک مخصوص سیاسی گروہ کے حواری تصور کئے جاتے ہیں ۔ قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کی جانب سے کئے گئے ترقیاتی کاموں کا مشاہدہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ جو کام بلدیہ کے خرچ سے انجام پائے ہیں وہی کام اتھاریٹی نے بھی انجام دیئے ہیں۔ جن کاموں کے لئے منتخبہ عوامی نمائندوں کے ترقیاتی فنڈس خرچ کئے گئے ہیں ان کاموں کے بل قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی نے بھی ادا کئے ہیں۔ ان معلومات کو اکٹھا کرنے کیلئے قانون حق آگہی کا استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن عہدیدار وں کا تعاون و قانون کی پاسداری نہ کئے جانے کے سبب یہ اسکام منظر عام پر نہیں آسکا تھا لیکن اب تمام حقائق یکجا ہو چکے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT