Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / سرکاری محکمہ میں مخلوعہ جائیدادوں پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ

سرکاری محکمہ میں مخلوعہ جائیدادوں پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ

ایک لاکھ سے زائد جائیدادوں پر تقررات کے اعلان کا خیرمقدم، آر کرشنیاء کا بیان
حیدرآباد ۔19 اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ تلگودیشم پارٹی رکن اسمبلی و صدر نیشنل بیاک ورڈ کلاسیس ویلفیر اسوسی ایشن مسٹر آر کرشنیا نے ریاست تلنگانہ میں پائی جانے والی سرکاری محکمہ جات کی مخلوعہ جائیدادوں سے متعلق فی الفور ’’وائٹ پیپر‘‘ جاری کرنے کا چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ سے پرزور مطالبہ کیا اور مخلوعہ جائیدادوں کے سلسلہ میں محکمہ جاتی جائزہ لینے کی اپیل بھی کی۔ انہوں نے اس سلسلہ میں ایک تفصیلی یادداشت چیف منسٹر کو روانہ کرتے ہوئے چیف منسٹر کی جانب سے ایک لاکھ 20 ہزار سرکاری ملازمتیں فراہم کرنے کیلئے کئے گئے اعلان پر نہ صرف مسرت کا اظہار کیا بلکہ خیرمقدم کیا۔ تاہم اس سلسلہ میں مسٹر کرشنیا نے بتایا کہ اعلان کردہ جائیدادوں کی تفصیلات واضح نہیں ہیں۔ رکن اسمبلی نے کہا کہ محکمہ جات کے اعلیٰ عہدیداروں بشمول اسپیشل چیف سکریٹریز، پرنسپل سکریٹریز، کمشنرس اپنے اپنے محکمہ جات میں وظیفہ حسن خدمت پر ریٹائرڈ ہونے سے مخلوعہ ہونے والی جائیدادوں کی تعداد حکومت کو پیش کرنے میں پہلوتہی کررہے ہیں، جس کی وجہ سے مخلوعہ جائیدادوں کے اعداد و شمار کی حقیقی تعداد معلوم نہیں ہوپارہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 10 اضلاع کے بجائے اب 31 اضلاع کئے گئے جس کی وجہ سے نئے نئے دفاتر کے قیام کی وجہ سے ان دفاتر میں مناسب انداز میں اسٹاف نہیں ہے۔ علاوہ ازیں سرکاری مدارس میں گذشتہ پانچ سال کے دوران کتنے مدرسین و معلمات وظیفہ پر سبکدوش ہوئے اس کی تفصیلات حکومت کے پاس ہرگز موجود نہیں ہے۔ اگر کوئی تفصیلات حکومت کے پاس ہوں تو بھی وہ تعداد بالکلیہ غلط ہوگی کیونکہ حکومت کے دباؤ میں آ کر عہدیدار اپنے فرض کی تکمیل تصور کرکے اعدادوشمار جو دستیاب رہتے ہیں وہ حکومت کو روانہ کردیئے جارہے ہیں بلکہ مخلوعہ جائیدادوں کے حقیقی اعداد و شمار پیش نہیں کئے جارہے ہیں۔ مسٹر کرشنیا رکن اسمبلی نے بتایا کہ اساتذہ کی تعداد مدارس میں طلباء کے تناسب سے ہونا چاہئے لیکن طلباء کے تناسب کو بالکلیہ طور پر نظرانداز کردیا جارہا ہے جبکہ حقیقت تو یہ ہیکہ گذشتہ عرصہ کے دوران بتایا جاتا ہیکہ ریاست تلنگانہ کے زائد از 40 ہزار اساتذہ کی جائیدادیں مخلوعہ ہوچکی ہیں لیکن ایک طویل عرصہ سے اساتذہ کے تقررات بھی عمل میں نہیں لائے گئے بلکہ اساتذہ کے تقررات عمل میں لانے کیلئے صرف زبانی جمع خرچ کی باتیں ہی کی جارہی ہیں۔ تلگودیشم رکن اسمبلی نے چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ سے سرکاری مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات عمل میں لانے کا پر زور مطالبہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT