Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی عدم فراہمی

سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی عدم فراہمی

حکومت تلنگانہ کے رویہ کی سخت مذمت، محمد علی شبیر قائد اپوزیشن تلنگانہ کونسل کا ردعمل
حیدرآباد 11 اکٹوبر (سیاست نیوز) قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن کی جانب سے کئے جارہے تقررات میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی گنجائش فراہم نہ کرنے تلنگانہ حکومت کے رویہ کی سخت مذمت کی اور کہاکہ اگر واقعی ٹی آر ایس زیرقیادت تلنگانہ حکومت تعلیم و ملازمتوں میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات دینے سے حقیقی طور پر دلچسپی و سنجیدگی رکھتی ہے تو فی الفور بیاک ورڈ کلاسیس کمیشن (بی سی کمیشن) کی تشکیل عمل میں لانے کا پرزور مطالبہ کیا۔ آج یہاں اپنے ایک بیان میں مسٹر محمد علی شبیر نے مسٹر جی سدھیر کی زیرقیادت انکوائری کمیشن کی میعاد کو 31 مارچ 2016 ء تک توسیع دینے حکومت کے اقدامات پر سخت اعتراض کیا اور حکومت کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ کمیشن آف انکوائری کی میعاد میں توسیع کرنا ہی مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کے وعدے کو ٹالنے کی ایک کوشش کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ حقیقت تو یہ ہے کہ چندرشیکھر راؤ نے اقتدار حاصل کرنے کے چار ماہ کے دوران مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا اپنے انتخابی منشور میں وعدہ کیا تھا لیکن مسلم طلباء کے دو تعلیمی سال بھی ہوجانے کے باوجود آج تک انھیں تعلیمی شعبہ میں تحفظات فراہم نہیں کئے گئے۔ اسی طرح اب تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن کی جانب سے تقررات بڑے پیمانے پر کئے جارہے ہیں لیکن تقررات میں بھی مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی سے محروم کیا جارہا ہے۔ اُنھوں نے اس سلسلہ میں مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوششوں سے گریز کرنے کا چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ کو مشورہ دیا اور اپنے وعدے پر عمل کرنے کے لئے فی الفور بی سی کمیشن کا قیام عمل میں لانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ مسٹر جی سدھیر کی زیرقیادت قائم کردہ انکوائری کمیشن کو کوئی قانونی موقف ہی حاصل نہیں ہے جس کے پیش نظر وہ تحفظات فراہم کرنے کے معاملہ میں کوئی سفارشات پیش کرنے کے مجاز ہی نہیں رہے بلکہ کمیشن صرف مسلمانوں کی پسماندگی سے متعلق تازہ ترین اعداد و شمار ہی پیش کرسکتا ہے۔ جبکہ مسلمانوں کی تازہ ترین پسماندگی سے متعلق اعداد و شمار حکومت کے ہاں موجود ہیں جوکہ گزشتہ دنوں گھر گھر سروے کے ذریعہ حاصل ہوچکے ہیں۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز اسمبلی نے مسٹر سدھیر کی زیرقیادت کمیشن آف انکوائری کو ’’وقت گزاری کمیشن‘‘ سے تعبیر کیا اور کہاکہ سابق میں کانگریس حکومت نے سال 1994 ء کے دوران مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کے لئے ہی پٹو سوامی کمیشن کی تشکیل عمل میں لائی تھی اور بعدازاں تلگودیشم برسر اقتدار آنے کے بعد مسٹر چندرابابو نائیڈو نے پٹو سوامی کمیشن کی میعاد میں توسیع کی تھی۔ لیکن پٹو سوامی نے 9 سال تک صرف وقت گزاری کرتے ہوئے ایک لائن کی بھی سفارش حکومت کو پیش نہ کرتے ہوئے پٹو سوامی نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا تھا اور اب سدھیر کی زیرقیادت کمیشن آف انکوائری سے بھی اسی طرح کا اندیشہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT