Saturday , October 21 2017
Home / ہندوستان / سرکاری ملازمین بچوں کو گورنمنٹ پرائمری اسکول بھیجیں:الہ آباد ہائیکورٹ

سرکاری ملازمین بچوں کو گورنمنٹ پرائمری اسکول بھیجیں:الہ آباد ہائیکورٹ

خلاف ورزی پر انکریمنٹ اور ترقی روکنے ،خانگی فیس کی مماثل رقم سرکاری خزانہ میں جمع کرانے کی تجویز
الہ آباد ۔ 18 ۔ اگست (سیاست ڈاٹ کام) الہ آباد ہائی کورٹ نے آج اترپردیش چیف سکریٹری سے کہا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ سرکاری ملازمین ، منتخبہ نمائندے اور عدلیہ سے تعلق رکھنے والے ارکان کے علاوہ وہ تمام لوگ جنہیں سرکاری خزانے یا پبلک فنڈ سے تنخواہ ملتی ہے یا دیگر فوائد حاصل ہوتے ہیں، وہ اپنے بچوں کو اسٹیٹ بورڈ فار سیکنڈری ایجوکیشن کی جانب سے چلائے جارہے پرائمری اسکولس روانہ کریں۔ جسٹس سدھیر اگروال نے آج یہ فیصلہ سناتے ہوئے رولنگ دی کہ خلاف ورزی کرنے والوں کیلئے تعزیری کارروائی کی گنجائش بھی رکھی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مثال کے طور پر اگر کوئی بچہ خانگی اسکول جاتا ہے جو یو پی بورڈ کے تحت نہیں چلایا جاتا تو ان بچوں کی فیس کی شکل میں ادا کی جانے والی رقم کے مماثل رقم کو ایسے غلطی کرنے والے عہدیدار یا منتخبہ نمائندوں سے حاصل کر کے سرکاری خزانہ میں جمع کرائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سلسلہ ہر ماہ اس وقت تک جاری رکھا جائے جب تک غلطی کا ارتکاب کرنے والے اپنے بچوں کو اس طرح کی تعلیم دیتے رہیں۔ یہی نہیں بلکہ اگر کوئی شخص برسر خدمت ہو تو اسے انکریمنٹ ، ترقی کے فوائد مخصوص مدت کیلئے روک دیئے جانے چاہئے ۔ عدالت نے کہا کہ بطور تمثیل یہ باتیں کہی جارہی ہیں۔ حکومت اس ضمن میں تمام امور کا جائزہ لیتے ہوئے قواعد و ضوابط وضع کرسکتی ہے۔ عدالت نے اومیش کمار سنگھ اور دیگر کی دائر کردہ درخواست پر یہ فیصلہ سنایا جس میں یو پی میں 2013 ء اور 2015 ء کے لئے سرکاری پرائمری اور جونیئرہائی اسکولس میں اسوسی ایٹ ٹیچرس کے انتخاب کے عمل کو چیالنج کیا گیا تھا۔ عدالت نے اساتذہ کے تقرر کے معاملہ میں ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے عمومی اور ناقابل فہم قواعدکے علاوہ اختیار کردہ طرز عمل پر تنقید کی ۔

TOPPOPULARRECENT