Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / سرکاری نامزد عہدوں پر مسلم قائدین کے تقرر کیلئے اقدامات

سرکاری نامزد عہدوں پر مسلم قائدین کے تقرر کیلئے اقدامات

ناراض قائدین کو عہدے دینے چیف منسٹر کے چند ر شیکھر راؤ کی مساعی

حیدرآباد۔/16اگسٹ، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے سرکاری نامزد عہدوں پر مسلم اقلیت سے تعلق رکھنے والے قائدین کی نامزدگی کیلئے اضلاع سے رپورٹ طلب کی ہے۔ انہوں نے مسلم ارکان قانون ساز کونسل اور مختلف کارپوریشنوں کے صدورنشین کو مختلف اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے تلنگانہ تحریک میں نمایاں رول ادا کرنے والے قائدین کی فہرست پیش کرنے کی ہدایت کی۔کے سی آر نے آج فارم ہاوز میں ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی ، ارکان کونسل محمد فاروق حسین ، محمد فرید الدین، محمد سلیم کے علاوہ کارپوریشنوں کے صدور نشین سید اکبر حسین، یوسف زاہد، علیم الدین، عنایت علی باقری اور برہان بیگ ، صدر اقلیتی سل مجیب الدین ، ڈپٹی میئر بابافصیح الدین کے ساتھ اقلیتوں کی صورتحال اور اقلیتی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ 3 گھنٹے سے زائد تک چیف منسٹر نے اقلیتی قائدین کووقت دیا اور مسلمانوں کو پارٹی سے قریب کرنے کی حکمت عملی کا جائزہ لیا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر عیدالاضحی سے قبل یا اس کے فوری بعد پارٹی میں عہدوں سے محروم قائدین کی ناراضگی دور کرنا چاہتے ہیں۔ اقلیتی کمیشن، اردو اکیڈیمی، حج کمیٹی، انیس الغرباء پر تقررات کے علاوہ عام زمرہ کے کارپوریشنوں میں بھی نمائندگی دی جائے گی۔ ارکان کونسل اور صدور نشین انہیں الاٹ کردہ اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے مقامی رکن پارلیمنٹ اور رکن اسمبلی سے مشاورت کے ذریعہ اقلیتی قائدین کی فہرست تیار کریں گے۔

یہ رپورٹ ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی اور صدر ریاستی اقلیتی سل مجیب الدین کو پیش کریں گے۔ بعد میں کے ٹی راما راؤ سے مشاورت کے بعد قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اقلیتیں پوری طرح ٹی آر ایس کے ساتھ ہیں اور 2019 میں دوبارہ شاندار کامیابی ہوگی۔ کے سی آر نے اقلیتی اداروں کی کارکردگی اور ان کے تحت اسکیمات پر عمل آوری کے سلسلہ میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے کہا کہ اسکیمات پر موثر عمل آوری ہو اور اس کے فوائد حقیقی مستحقین تک پہنچیں۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے اقلیتی فینانس کارپوریشن، وقف بورڈ، اردو اکیڈیمی اور سٹ ون جیسے اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے باہم مشاورت کی تجویز پیش کی۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر آئندہ سال بجٹ میں اقلیتی بہبود کے لئے مزید 500 کروڑ کے اضافہ کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ ہر ضلع کے سرکاری اداروں میں مسلمانوں کی نمائندگی3 یا 4 قائدین کی ہوگی تاکہ ہر سطح پر مسلمانوں کو نمائندگی ملے۔ چیف منسٹر نے انفارمیشن کمشنرس کے عہدوں میں ایک پر مسلم قائد کو نامزد کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی بہبود محکمہ میں عہدیداروں کی کمی کو پورا کیا جائے گا۔ حیدرآباد کے ایسے علاقے جہاں حلیف جماعت مجلس ہے وہاں کے سرگرم ٹی آر ایس قائدین کی فہرست ڈپٹی چیف منسٹر تیار کریں گے۔ واضح رہے کہ کل حج ہاوز میں کے سی آر نے ایک اقلیتی قائد کو طلب کرتے ہوئے بائیو ڈاٹا ڈپٹی چیف منسٹر کے حوالے کرنے کی ہدایت دی تھی۔

TOPPOPULARRECENT