Wednesday , September 20 2017
Home / مذہبی صفحہ / سرکارﷺ کی نگری ،رحمت کردگار کی راجدھانی

سرکارﷺ کی نگری ،رحمت کردگار کی راجدھانی

ابوزاہد شاہ سید وحید اللہ حسینی

اللہ تعالیٰ نے تاریخی آثار، نشانات، علامات اور توقیر و عقیدت کے مرکز، اسلامی ثقافت کے دارالخلافہ اور بدون جنگی مہم محض ایمانی حرارت اور قرآنی تعلیمات کے فیضان سے فتح ہونے والے شہر مدینہ منورہ کو حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت کے باعث بے شمار امتیازات، خصوصیات، برکات و حسنات، الغرض جملہ کمالات اور رحمت کاملہ سے نوازا ہے۔ عشق مجاز کے حامل شخص سے پوچھئے کہ ساری دنیا میں اسے کونسا خطۂ ارضی سب سے زیادہ محبوب ہے؟ تو وہ بلاتامل کہے گا کہ ’’جس میں میرا محبوب رہتا ہے‘‘۔ بلاتمثیل اگر عاشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم آنکھوں کے نور، دل کے سرور، مرکز عشق، بھلائیوں کے معدن، نیکیوں کے منبع اور کعبہ کا کعبہ یعنی روضہ اقدس و اطہر کے حامل شہر مدینہ منورہ سے بے انتہا محبت کرے اور اعلان کرے کہ مجھے مدینہ منورہ کی گلیاں جنت کی گلیوں سے زیادہ محبوب ہیں تو کیا تعجب ہے۔ اس شہر معطر و معنبر میں وہ عظیم ہستی آرام فرما ہے، جو نہ صرف کائنات کی محبوب ہے، بلکہ محبوب رب کائنات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حبیب داور صلی اللہ علیہ وسلم کا دربار فیض آثار جس شہر مقدس میں واقع ہے، وہ مکہ مکرمہ کے بعد دنیائے اسلام کا سب سے پیارا، بابرکت اور مقدس شہر ہے اور یہاں ہوا کے جھونکے بھی باادب اور خاموش گزرتے ہیں۔
رشک بہار باغ جنت مدینہ منورہ سے قلبی وابستگی ہر دور کے مسلمانوں بالخصوص برگزیدہ ہستیوں کا وتیرہ رہا ہے۔ چنانچہ روایت میں آتا ہے کہ خلیفہ دوم حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ اکثر یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ ’’اے خدا! اپنی راہ میں مجھے شہادت عطا فرما اور اپنے رسول کے شہر میں موت عطا فرما‘‘۔ (بخاری شریف)
حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے دل میں مدینہ منورہ کے لئے اتنی محبت تھی کہ شہر کریم سے باہر نکلنا پسند نہیں کرتے تھے، محض اس اندیشہ سے کہ ایسا نہ ہو کہ اس شہر کریم سے باہر جاؤں اور وہاں میری موت واقع ہو جائے اور میں مدینہ پاک کے غبار، مٹی پاک اور قبر انور کی سعادت سے محروم ہو جاؤں۔ چنانچہ سوائے فرض حج کے کوئی اور حج ادا نہیں کیا۔ آپ نے پوری زندگی مدینہ منورہ میں ہی بسر کی اور وہیں آسودہ خاک ہوکر سعادت ابدی حاصل کی۔ (جذب القلوب)
مکہ معظمہ کے بعد عاشقان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے انوار و تجلیات، الطاف و عنایات الہیہ کا مرکز یعنی مدینہ منورہ تمام اماکن و اوطان اور شہروں سے عمدہ و بہتر ہے اور کیوں نہ ہو جب کہ خالق کونین نے خود اس شہر کو طیب کہا ہے اور اس لفظ کا اطلاق عمدہ و بہترین کے معانی پر ہوتا ہے (بحوالہ مسلم شریف) یہ وہ شہر معظم ہے، جس کے ذروں سے خورشید ابھرتے ہیں۔ بارگاہ کونین صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت کے باوصف مدینہ منورہ میں رب کائنات کے انوار اور اس کی رحمتوں کی بارش شب و روز، ہرسمت، ہرآن اور ہر لحظہ برستی رہتی ہے، جس کی بدولت یومیہ کئی عاصی اپنے گناہوں سے نجات پاتے ہیں، کئی سیاہ کار اور گنہگار لوگوں کا مقدر آن واحد میں چمک جاتا ہے اور وہ عابد و صالح اور متقی بن جاتے ہیں۔ نبی محتشم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’مدینہ منورہ ہر شخص کو اس کے گناہوں کو دور کرنے میں ایسا ہی مدد دیتا ہے، جیسے بھٹی چاندی کو صاف شفاف کرتی ہے‘‘ (بخاری شریف) ایک اور روایت میں ہے کہ ’’یہ شہر ’’طیبہ‘‘ ہے، یہ گناہوں کو ایسے ہی دھو ڈالتا ہے، جیسے آگ سونا اور چاندی میں سے کھوٹ بھسم کردیتی ہے‘‘۔ (بخاری شریف)
جو شخص حسن نیت، خلوص دل، ظاہری و باطنی ادب و احترام اور تعظیم و تکریم بجالاتے ہوئے انتہائی عاجزی و انکساری کے ساتھ اس شہر مقدس کی زیارت کرتا ہے تو بروز محشر رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا وہ مستحق بن جاتا ہے (شعب الایمان، سنن دار قطنی) صاحب ایمان اس شہر مقدس کا احترام کیوں نہ کریں، جب کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ارشاد فرمایا ہے کہ ’’حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو محترم اور حرمت والا قرار دیا تھا اور میں مدینہ کو محترم اور حرمت والا قرار دیتا ہوں‘‘ (مسلم شریف) اس شہر مقدس کی حفاظت کی ذمہ داری رب کائنات نے ایسی مخلوق کے حوالے کیا ہے، جو کسی لمحہ رب کی نافرمانی نہیں کرتی، یعنی مدینہ منورہ کی نگہبانی کا فریضہ خالق کائنات نے فرشتوں کے سپرد فرمایا ہے۔ ہادی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، مدینہ طیبہ کی تمام گھاٹیوں اور راستوں پر دو دو فرشتے حفاظت کے لئے مامور ہیں‘‘ (مسلم شریف) یہی وجہ ہے کہ اس شہر مقدس میں نہ ہی طاعون داخل ہوگا اور نہ ہی دجال، جس کے خوف سے ساری دنیا دہل جائے گی۔ (متفق علیہ)
اسی ارض مقدس میں وہ مسجد بھی ہے، جو ایمانی و روحانی منافع و فوائد کا مرکز ہے، جس میں ایک نماز کی ادائیگی کا ثواب پچاس ہزار نمازیں ادا کرنے کے برابر ہے اور جو شخص مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں متواتر چالیس نمازیں ادا کرتا ہے تو اس کی برکت سے اللہ تعالی اس نمازی کو عذاب سے براء ت، جہنم سے نجات اور اس کے دل کو نفاق سے پاک کردیتا ہے (مسند احمد بن حنبل، وفاء الوفا) اسی مسجد نبوی میں ایک جگہ ایسی بھی ہے، جس کے بارے میں رسول برحق صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’وہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے‘‘۔ اسی شہر عظیم مدینہ منورہ میں وہ مسجد بھی واقع ہے، جس کی تاسیس و بنیاد خالصتاً تقویٰ اور اللہ تعالی کی رضا و خوشنودی پر رکھی گئی، جسے عرف عام میں مسجد قباء کہا جاتا ہے۔ اس مسجد میں نماز ادا کرنے کا ثواب ایک عمرہ ادا کرنے کے برابر ہے۔ (ترمذی و ابن ماجہ)
مدینہ منورہ وہ مقدس مقام ہے، جہاں قرب قیامت ایمان اس طرح لوٹ آئے گا، جیسے سانپ اپنے بل کی طرف واپس لوٹ آتا ہے (بخاری و مسلم) یہ آمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیضان تھا کہ دنیا نے دشمن جاں اقوام کو مدینہ طیبہ میں باہم شیر و شکر ہوتے دیکھا۔ حبیب داور علیہ السلام کی قدم بوسی کے بعد اس مقدس زمین اور اس کی مٹی بیمار انسانیت کے لئے اکسیر بن گئی۔ ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ مرقع ہرخوبی و زیبائی صلی اللہ علیہ وسلم مریض کے لئے فرمایا کرتے تھے کہ ’’اللہ کے نام کے ساتھ ہماری زمین کی مٹی بیمار کو شفا دیتی ہے‘‘ ( بخاری) حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ سید الاولین والآخرین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مدینہ کا غبار کوڑھ کی بیماری کے لئے شفاء ہے‘‘ (زرقانی) علامہ قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ مدینہ منورہ کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ مدینہ منورہ کا غبار بالعموم تمام روحانی اور جسمانی امراض اور بالخصوص جذام اور برص کے لئے باعث شفاء ہے‘‘۔ (مواہب لدنیہ)

TOPPOPULARRECENT