Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / سرینگر میںصرف 2 فیصد رائے دہی ، پولنگ بوتھس سنسان

سرینگر میںصرف 2 فیصد رائے دہی ، پولنگ بوتھس سنسان

ضمنی انتخابات میں مجموعی طور پر 7.3 فیصد رائے دہی ، کل ووٹوں کی گنتی ، فاروق عبداللہ نے سنگباری کرنے والوں کی پھر تائید کی
سرینگر ۔ /13 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) سرینگر لوک سبھا حلقہ کے 38 پولنگ اسٹیشن پر ضمنی انتخابات کے سلسلے میں آج مکرر رائے دہی ہوئی لیکن ریاست کی تاریخ کی سب سے کم صرف 2 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ رائے دہی کا مجموعی فیصد اب بڑھ کر 7.13 ہوگیا ہے ۔ آج عوام نے پرامن طور پر حق رائے دہی سے استفادہ کیا ۔ اتوار کو ضمنی انتخابات کی رائے دہی کے دوران بڑے پیمانے پر تشدد کے بعد یہاں دوبارہ رائے دہی کرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔ انتخابی ڈیوٹی سے وابستہ ایک عہدیدار نے بتایا کہ تمام 38 پولنگ بوتھس پر 34,169 کے منجملہ 4 بجے دن تک صرف 709 افراد نے رائے دہی میں حصہ لیا ۔ انہوں نے بتایا کہ خان صاحب اسمبلی حلقہ میں کسی نے بھی ووٹ نہیں دیا جبکہ بڈگام سگمنٹ میں صرف 3 ووٹ ڈالے گئے جبکہ چرار شریف میں 84 ووٹ ڈالے گئے ۔ بیرواہ میں 362 اور چدورہ میں صرف 261 افراد نے حق رائے دہی سے استفادہ کیا ۔ عہدیدار نے بتایا کہ سنگباری کے معمولی واقعات کے ماسواء مکرر رائے دہی مجموعی طور پر پرامن رہی ۔ بڈگام ضلع کے دو علاقوں میں سنگباری کے دو واقعات پیش آئے لیکن سکیورٹی فورسیس نے اشرار کا تعاقب کرتے ہوئے انہیں منتشر کردیا ۔ سرینگر لوک سبھا حلقہ کیلئے رائے دہی کا مرحلہ پورا ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی /15 اپریل کو ہوگی ۔ نیشنل کانفرنس لیڈر فاروق عبداللہ اور حکمراں پی ڈی پی کے نذیر احمد خان کے بشمول 9 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں ۔ پی ڈی پی لیڈر طارق حمید کرہ نے گزشتہ سال حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی انکاؤنٹر میں ہلاکت کے بعد احتجاج کرنے والے عوام پر مظالم کے خلاف بطور احتجاج استعفی دیدیا تھا

جس کی وجہ سے یہ نشست مخلوعہ ہوگئی اور یہاں ضمنی انتخابات ناگزیر ہوگئے تھے ۔ اس دوران نیشنل کانفرنس سربراہ فاروق عبداللہ نے سنگباری کرنے والوں کا عملاً دفاع کرتے ہوئے کہا کہ سب سنگباری کرنے والے یکساں نہیں ہوتے ۔ انہوں نے یہ جاننا چاہا کہ کیا قوم کو کشمیر کے ان نوجوانوں اور ان کے مستقبل کے بارے میں فکر لاحق ہے یا نہیں ۔ آج ایک تقریب میں سنگباری کرنے والوں کی تائید سے متعلق میڈیا کے سوالات پر فاروق عبداللہ برہم ہوگئے ۔ انہوں نے اس بارے میں مزید کوئی تبصرہ سے انکار کیا اور تقریب سے فوری چلے گئے ۔ ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ سنگباری کرنے والوں کی حمایت کرتے ہوئے قوم کے جذبات سے کھلواڑ کررہے ہیں ۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ قوم کے جذبات سے آخر کیا مراد ہے ۔ آپ کو یہ دیکھنا چاہئیے کہ نوجوانوں کی شکایات کیا ہیں ۔ آپ کو صرف قوم کی فکر ہے لیکن ان سنگباری کرنے والوں کے مستقبل کی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔

TOPPOPULARRECENT