Friday , August 18 2017
Home / ہندوستان / سرینگر میں ایک نوجوان کی موت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

سرینگر میں ایک نوجوان کی موت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

پولیس تحدیدات سے عام زندگی متاثر ۔ علحدگی پسند قائدین نظر بند
سرینگر ۔ 11 ۔ نومبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : گذشتہ ہفتہ سیکوریٹی فورسیس کی کارروائی میں ایک نوجوان کی ہلاکت کے خلاف علحدگی پسندوں کے احتجاجی مظاہرہ کی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے آج 7 پولیس اسٹیشن کے حدود میں پابندی عائد کردی گئیں ۔ پولیس نے بتایا کہ سید علی شاہ گیلانی کی زیر قیادت شدت پسند حریت کانفرنس نے مہلوک نوجوان کے آج چوتھے دن کے موقع پر زین کوٹے تک احتجاجی مارچ نکالنے کا اعلان کیا تھا ۔ جب کہ یہ نوجوان گوہر احمد دار ہفتہ کے دن وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ کے خلاف احتجاج میں مارا گیا تھا ۔ سیکوریٹی فورسیس پر سنگباری کے خلاف سیکوریٹی فورسیس کی جوابی فائرنگ میں یہ نوجوان ہلاک ہوگیا تھا ۔ سرکاری حکام نے وزیر اعظم کے دورہ کے پیش نظر جن علحدگی پسند لیڈروں کو مکانات پر نظر بند کردیا تھا انہیں ہنوز رہا نہیں کیا گیا ہے ۔ وادی میں پولیس کی تحدیدات سے عام زندگی متاثر ہوگئی اور کئی شہروں میں دکانات اور مارکٹس بند رکھے گئے ۔ جب کہ سرینگر ، بارہمولہ ، بنڈی پورہ اور گنٹریربل ، کپواڑہ میں بین ضلعی ٹریفک منقطع ہوگئی ہے ۔ واضح رہے کہ ہفتہ کی شام زین کوٹے علاقہ میں سنگباری کرنے والے ہجوم پر سیکوریٹی فورسیس نے آنسو گیس کے شیل داغے تھے اور ایک شیل انجینئرنگ کالج کے طالب علم گوہر احمد دار کے سرپر لگنے سے وہ شدید زخمی ہوگیا اور بعد ازاں دواخانہ میں جانبر نہ ہوسکا۔

TOPPOPULARRECENT