Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / سرینگر میں دوسرے دن بھی احتجاجی بند

سرینگر میں دوسرے دن بھی احتجاجی بند

علحدگی پسند قائدین کی گرفتاری پر نوجوانوں کی برہمی
سرینگر۔/20اکٹوبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) ادہم پور پٹرول بم دھماکہ کا شکار زاہد رسول بھٹ کی موت پر آج دوسرے دن بھی کشمیر کے بعض مقامات پر احتجاجیوں اور سیکوریٹی فورسیس کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 6افراد زخمی ہوگئے۔سرینگر شہر کے قلب میں واقع لال چوک پر پولیس نے علحدگی پسند لیڈروں بشمول صدرنشین جے کے ایل ایف محمد یسین ملک کو ضلع اننت ناگ میں ٹرک آپریٹر زاہد کے مکان کا دورہ کرنے کے بعد حراست میں لے لیا۔ ضلع اننت ناگ کے مختلف علاقوں میں آج دوسرے دن بھی زآہد کی موت کے خلاف احتجاجی بند منایا گیا اور دن بھر احتجاجیوں اور سیکوریٹی فورس کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 6افرادزخمی ہوگئے۔ پولیس نے بتایا کہ اننت ناگ میں عوام کی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں ہے لیکن حساس علاقوں میں امن و قانون کی برقراری کیلئے اضافی سیکورٹی فورس کو طلب کرلیا گیا۔ قبل ازیں یسین ملک اور جے کے ایل ایف کے دوسرے گروپ کے صدر نشین جاوید میر کو اسوقت حراست میں لے لیا گیا جب وہ مرحوم زاہد کے گاؤں میں تعزیتی جلسہ میں شرکت کے بعد واپس آرہے تھے جوکہ لال چوک سرینگر پر احتجاجی مظاہرہ کا منصوبہ رکھتے تھے۔ ملک کی گرفتاری کی اطلاع ملتے ہی جے کے ایل ایف کارکن سڑکوں پر نکل آئے اور دکانات کو زبردستی بند کروایا۔ نوجوانوں کا ایک گروپ پولیس پر سنگباری کرتے ہی صورتحال کشیدہ ہوگئی تاہم پولیس نے حالات پر قابو پانے کیلئے آنسو گیس کے شیل داغے جبکہ متعدد علحدگی پسند قائدین بشمول صدر نشین حریت کانفرنس سید علی شاہ گیلانی، نعیم خان اور شبیر شاہ کو مکانات پر نظر بند کردیا گیا۔ واضح رہے کہ ایک ٹرک مالک زاہد رسول ہفتہ 9اکٹوبر کو جموں سے کشمیر جارہے تھے کہ پٹرول بم سے حملہ کردیا گیا تھا جس میں ڈرائیورشوکت احمد بھی زخمی ہوگیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT