Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / سرینگر میں سخت تحدیدات سے ’یو این مارچ‘ناکام

سرینگر میں سخت تحدیدات سے ’یو این مارچ‘ناکام

جامع مسجد میں لگاتار پانچویں مرتبہ نماز جمعہ ادا نہ کی جاسکی، وادی کے بعض مقامات پر جھڑپیں
سرینگر ، 21جولائی (سیاست ڈاٹ کام ) کشمیر انتظامیہ نے جمعہ کے دن گرمائی دارالحکومت سری نگر کے 8 پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کرکے علیحدگی پسند قیادت کی طرف سے دی گئی اقوام متحدہ فوجی مبصرین کے دفترتک مارچ کی اپیل ناکام بنادی۔ کرفیو جیسی پابندیوں کے سبب سری نگر کے پائین شہر میں واقع تاریخی جامع مسجد میں آج مسلسل پانچویں بار نماز جمعہ ادا نہ کی جاسکی۔ سیول لائنز میں اقوام متحدہ کے دفتر سے کچھ دوری پر واقع مسجد شریف سعید صاحب سوناوار میں بھی نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ وادی میں نماز جمعہ کی ادائیگی سے قبل اور اس کے بعد چند ایک مقامات پر احتجاجی مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جن میں ایک 25 سالہ نوجوان ہلاک جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوگئے۔ سری نگر کے سیول لائنز میں ہائی سیکورٹی زون سونا وارمیں واقع اقوام متحدہ فوجی مبصرین کے دفتر کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو خاردار تاربچھا کر اور دیگر رکاوٹیں کھڑی کرکے بندکردیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کشمیری عوام کے خلاف روا رکھی جارہی مبینہ زیادتیوں، قتل و غارت گری ، مار دھاڑ ، پکڑ دھکڑ اور حقوق انسانی کی سنگین پامالیوں کے خلاف آج ہڑتال کی اپیل کی اور کشمیری عوام کے خلاف ہو رہی مبینہ ظلم و زیادتیوں کی جانب عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانے کے لئے بعد از نماز جمعہ پر امن احتجاجی مظاہرے کرنے اور سونا وار میں آستانہ عالیہ سعید صاحبؒ کی مسجد شریف میں اجتماعی طور نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد اس کے روبرو واقع اقوام متحدہ فوجی مبصرین دفتر کے سامنے احتجاجی دھرنا دینے کی اپیل کی تھی۔

تاہم کشمیر انتظامیہ نے سرینگر کے پائین شہر کے بیشتر حصوں جبکہ سیول لائنز کے کچھ حصوں میں سخت ترین پابندیاں نافذ کرکے علیحدگی پسند قیادت کے اقوام متحدہ فوجی مبصرین دفتر کے سامنے مجوزہ احتجاجی پروگرام کو ناکام بنادیا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ سری نگر کے بعض حصوں میں پابندیاں عائد کرنے کا اقدام شہر میں امن وامان کو برقرار رکھنے کے لئے کیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ صورتحال بہتر رہنے کی صورت میں تمام پابندیاں جمعہ کی شام کو ہٹالی جائیں گی۔علیحدگی پسند قیادت کی اپیل پر جمعہ کو وادی کے سبھی 10 اضلاع میں مکمل ہڑتال رہی جس کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔ ادھر سرینگر کے پائین شہر اور سیول لائنز کے کچھ حصوں میں جمعہ کو کسی بھی طرح کے احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے کرفیو جیسی پابندیاں نافذ رہیں۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ سری نگر میں خانیار ، نوہٹہ ، رعنا واری ، مہاراج گنج ، صفہ کدل،مائسمہ، کرال کڈھ اور رام منشی باغ پولیس اسٹیشنوں کے تحت آنے والے علاقوں میں احتیاطی طور پر دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ تاہم سرکاری دعوے کے برخلاف پائین شہر میں جمعہ کی صبح سے ہی کرفیو جیسا منظر دیکھنے میں آیا۔سیکورٹی فورسز نے پائین شہر بالخصوص نوہٹہ کی بیشتر سڑکوں کی جمعہ کی صبح ہی سے ناکہ بندی کردی تھی۔

TOPPOPULARRECENT