Tuesday , August 22 2017
Home / ہندوستان / سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ پر پابندی

سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ پر پابندی

سری نگر ، 12 اگست (ساست ڈاٹ کام) کشمیری عوام کی سب سے بڑی عبادت گاہ تاریخی جامع مسجد سرینگرمیں آج لگاتار پانچویں جمعہ کو بھی نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس کے علاوہ وادی کی درجنوں دیگر مساجد میں بھی کرفیو کے باعث نماز جمعہ ادا نہ ہوسکی۔ جن مساجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت دی گئی، میں احتجاجی مظاہروں کا انعقاد کیا گیا جس دوران کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے بازی کی گئی۔کشمیر انتظامیہ نے آج نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر پورے ضلع سری نگر اور وادی کے دوسرے 9 اضلاع کے بیشتر قصبہ جات میں کرفیو نافذ کردیاتھا۔ قابل ذکر ہے کہ گذشتہ جمعہ کو وادی کے اطراف واکناف میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں تین عام شہری ہلاک جبکہ قریب 400 دیگر زخمی ہوگئے تھے ۔ زخمیوں میں سے جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان کا رہنے والا ایک نوجوان بعدازاں 8 جولائی کو سری نگر کے شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز (سکمز) میں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ گیا ۔ سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ پورے ضلع سری نگر میں آج کرفیو نافذ کردیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے بڈگام، چاڈورہ اور ماگام قصبہ جات میں کرفیو جبکہ ضلع گاندربل میں پابندیاں نافذ کردی گئی ہیں۔ شمالی کشمیر کے ایپل ٹاون سوپور میں کرفیوجبکہ بارہمولہ، کپواڑہ اور دیگر بڑے قصبہ جات و تحصیل ہیڈکوارٹروں میں سخت ترین پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔ جنوبی کشمیر کے قصبہ اننت ناگ میں آج 35 ویں روز بھی کرفیو کا نفاذ جاری رکھا گیا جبکہ پلوامہ، پانپور، شوپیان، کولگام اور دیگر علاقوں میں سخت ترین پابندیاں نافذ کردی گئی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT