Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / سرینگر کی جامع مسجد میں 19 ہفتوں بعد نماز جمعہ

سرینگر کی جامع مسجد میں 19 ہفتوں بعد نماز جمعہ

تاریخی مسجد کا محاصرہ ختم، گیلانی اور میر واعظ کو روک دیا گیا
سری نگر، 25 نومبر (سیاست ڈاٹ کام)19ہفتوں تک مقفل اور سیکورٹی فورسز کے محاصرے میں رہنے والی کشمیری عوام کی سب سے بڑی عبادت گاہ ‘تاریخی و مرکزی جامع مسجد سری نگر’ میں جمعہ کو نماز کی ادائیگی پر عائد غیراعلانیہ پابندی ہٹالی گئی اور اس622 برس قدیم تاریخی مسجد میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے نماز جمعہ اجتماعی طور پر ادا کی۔ تاہم حریت کانفرنس (ع) چیئرمین اور متحدہ مجلس علماء جموں وکشمیر کے امیر میرواعظ مولوی عمر فاروق کو تاریخی جامع مسجد جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ خیال رہے کہ وادی میں 8 جولائی کو حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے ساتھ ہی جہاں اطراف واکناف میں سخت ترین کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا گیا تھا، وہاں سیکورٹی فورسز نے اس تاریخی جامع مسجد کو سخت محاصرے میں لیکر اس کے باب الداخلے مقفل کردیے تھے ۔ اگرچہ قریب 55 دنوں بعد کرفیو ہٹالیا گیا، تاہم تاریخی جامع مسجد کا محاصرہ جاری رکھتے ہوئے اس میں نماز کی ادائیگی پر قدغن جاری رکھی گئی تھی۔

TOPPOPULARRECENT