Thursday , July 27 2017
Home / Top Stories / سرینگر کی جامع مسجد کا مسلسل محاصرہ، چوتھی مرتبہ نماز جمعہ ادا نہ ہوسکی

سرینگر کی جامع مسجد کا مسلسل محاصرہ، چوتھی مرتبہ نماز جمعہ ادا نہ ہوسکی

سری نگر 14جولائی (سیاست ڈاٹ کام ) کشمیر انتظامیہ نے مسلسل چوتھے جمعہ کو بھی دارالحکومت سری نگر کے پائین شہر میں سخت ترین پابندیوں کے ذریعے نوہٹہ میں واقع وادی کی سب سے بڑی عبادت گاہ مرکزی و تاریخی جامع مسجد سری نگر میں نماز جمعہ کی ادائیگی ناممکن بنادی۔دوسری جانب پائین شہر کے بیشتر علاقوں میں سخت ترین پابندیوں کا نفاذ جمعہ کو مسلسل تیسرے دن بھی جاری رکھا گیا۔ جامع مسجد میں 23 جون ( جمعتہ الوداع) ، 30 جون اور 7 جولائی کو بھی سخت ترین بندشوں کے ذریعے نماز کی ادائیگی ناممکن بنادی گئی تھی۔ 23 جون کو جمعتہ الوداع کے موقع پر جامع مسجد کو مقفل کرنے پر ریاستی حکومت کو مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور کہا تھا کہ ڈوگرہ شاہی حکومت کے بعد ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ جب تاریخی جامع مسجد میں جمعتہ الوداع کی نمازپر پابندی عائد کی گئی۔30 جون کو کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے متحدہ جہاد کونسل اور حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کو امریکہ کی جانب سے عالمی دہشت گرد قرار دیے جانے کے خلاف نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد احتجاج کرنے کی اپیل کی تھی اور انتظامیہ نے جامع مسجد میں نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کرکے وہاں کسی بھی طرح کے احتجاجی مظاہرے کو ناکام بنادیا تھا۔

انہوں نے مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ سخت ترین کرفیو نافذ کیا گیا۔ لگاتار چوتھے جمعہ کو بھی جامع مسجد میں نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی’۔کشمیر انتظامیہ نے پائین شہر کے پانچ پولیس تھانوں نوہٹہ، ایم آر گنج، صفا کدل، خانیار اور رعناواری کے تحت آنے والے علاقوں میں سخت ترین پابندیوں کا نفاذ 12 جولائی کو عمل میں لایا۔ سرکاری ذرائع نے 12 جولائی کو پائین شہر میں پابندیوں کے نفاذ کی وجہ ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا وسطی ضلع بڈگام کے رڈبگ میں مارے گئے حزب المجاہدین کے تین جنگجوؤں میں سے سجاد احمد بٹ کا تعلق نوہٹہ سے ہے اور اس کے پیش نظر شہر میں امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے پائین شہر میں پابندیاں نافذ کی گئیں۔تاہم 13 جولائی 1931 ء کے 22 شہدائے کشمیر کی 86 ویں برسی کے موقع پر علیحدگی پسند قیادت کی طرف سے ہڑتال کی اپیل کے پیش نظر پائین شہر میں پابندیوں کا جمعرات کو مسلسل دوسرے دن بھی جاری رکھا گیا۔جمعہ کو پابندیاں بظاہر رڈبگ بڈگام میں جاں بحق ہوئے سجاد احمد کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر جاری رکھی گئیں۔پائین شہر میں سخت ترین پابندیوں کے سبب معمول کی سرگرمیاں جمعہ کو مسلسل دوسرے دن بھی مفلوج رہیں۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پائین شہر کے پانچ پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں احتیاطی اقدامات کے طور پر دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT