Friday , October 20 2017
Home / ہندوستان / سرینگر کے داخلی علاقوں میں کرفیو

سرینگر کے داخلی علاقوں میں کرفیو

سرینگر ۔ 13 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) سرینگر کے داخلی علاقوں میں پیشگی احتیاطی اقدام کے طور پر نافذ رہا۔ معمولات زندگی آج 97 ویں دن بھی وادی کشمیر میں معطل رہے۔ پولیس کے عہدیداروں کے بموجب عوام کی نقل و حرکت پر بھی بعض پولیس اسٹیشنوں کے حدود میں احتیاطی اقدام کے طور پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ پولیس کے عہدیدار نے کہا کہ کشمیر کے باقی علاقوں میں عوام کی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ احتیاطی اقدام کے طور پر بعض علاقوں میں دفعہ 144 نافذ کیا گیا ہے۔ فوج حساس علاقوں میں تعینات کی گئی ہے تاکہ عوام میں تحفظ کا احساس پیدا ہوسکے اور وہ اپنی روزمرہ کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرسکیں۔ تاہم وادی کشمیر میں بے چینی کی وجہ سے تاحال 84 انسانی جانیں بشمول دو ملازمین پولیس ضائع ہوچکی ہیں۔ ہزاروں افراد فوج سے جھڑپوں میں زخمی ہوچکے ہیں۔ چار ماہ سے تعلیمی ادارے بند ہیں۔ سرکاری ٹرانسپورٹ سڑکوں پر نظر نہیں آرہی ہے۔ دکانیں اور دیگر تجارتی ادارے وقفہ وقفہ سے علحدگی پسندوں کے احتجاج میں نرمی کے دوران کھولے جارہے ہیں۔ دریں اثناء فیس بک پر وزیراعظم نریندر مودی کی ایک قابل اعتراض تصویر شائع کی گئی ہے جس میں انہیں راون کے جلتے ہوئے پتلے پر اپنا منہ لگا رکھا ہے۔ اس تصویر کی اشاعت کی پولیس تفتیش کررہی ہے۔ اس سلسلہ میں صوبیدار راکیش تیواری نے کل پولیس میں شکایت درج کروائی تھی۔ اس نے کہا کہ اسے یہ تصویر فیس بک پر دستیاب ہوئی تھی۔

TOPPOPULARRECENT