Sunday , September 24 2017
Home / کھیل کی خبریں / سری سانت پر امتناع کی برقراری غلط

سری سانت پر امتناع کی برقراری غلط

عدالتی فیصلے کے بعد بی سی سی آئی اپنا موقف تبدیل کرے: چیف منسٹر کیرالا اومین چنڈی

کوچی۔ 2 اگست (سیاست ڈاٹ کام) داغدار ہندوستانی فاسٹ بولر ایس سری سانت کی بھرپور تائید کرتے ہوئے چیف منسٹر کیرالا اومین چنڈی نے کہا کہ دہلی کورٹ نے انہیں اسپاٹ فکسنگ مقدمہ میں فوجداری الزامات سے بری کردیا ہے۔ اس کے باوجود بی سی سی آئی کی جانب سے بولر کے خلاف امتناع ختم نہ کرنا غلط ہوگا۔ چنڈی نے کہا کہ کسی طرح کی ناانصافی نہیں ہونی چاہئے۔ سری سانت پر آئی پی ایل 2013ء اسپاٹ فکسنگ مقدمہ کے بعد امتناع عائد کیا گیا تھا اور وہ دہلی عدالت کے فیصلہ کے بعد کرکٹ کی دنیا میں واپسی کے خواہاں ہیں۔ اومین چنڈی نے سری سانت کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ اس مسئلہ پر بی سی سی آئی کا موقف درست ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے اسپاٹ فکسنگ مقدمہ میں انہیں بری کردیا ہے۔ ایسی صورت میں انڈین بورڈ کو چاہئے کہ عدالت کا فیصلہ قبول کرتے ہوئے جاری امتناع برخاست کرے۔ تمام 36 ملزمین بشمول سری سانت، اسپنر انکیت چوہان اور اجیت چنڈیلا کو آئی پی ایل 6 اسپاٹ فکسنگ مقدمہ میں پٹیالہ ہاؤز کورٹ میں گزشتہ ماہ بری کردیا

 

لیکن بی سی سی آئی نے جاری امتناع برخاست کرنے سے انکار کیا ہے۔چیف منسٹر نے کہا کہ ہمارا ملک جمہوریت کا حامل ہے۔ تمام شعبوں میں ایک خصوصی نظام پایا جاتا ہے جو ایک توازن برقرار رکھنے میں معاون ہے۔ عدالتی فیصلہ سری سانت کے حق میں ہونے کے بعد بورڈ کو چاہئے کہ وہ سری سانت کے کرکٹ میں واپسی کے حق کو قبول کرے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو یہ غلط ہوگا۔ سری سانت کے ساتھ انصاف ہونا چاہئے۔ کیرالا کرکٹ اسوسی ایشن نے بی سی سی آئی سے سری سانت کو دوبارہ کھیلنے کی اجازت دینے کی درخواست کی ہے لیکن بورڈ سیکریٹری انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ دونوں کرکٹرس پر عائد تاحیات امتناع پر نظرثانی نہیں کی جائے گی۔ ٹھاکر  نے کہا کہ بی سی سی آئی تادیبی کمیٹی کا اس معاملے میں امتناع کا فیصلہ برقرار رہے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ تادیبی کارروائی اور تعزیری کارروائی دو مختلف اُمور ہیں۔ ماضی میں جو کارروائی کی گئی تھی، وہ ان کھلاڑیوں کی ڈسپلین شکنی کی بناء تادیبی کارروائی تھی اور بی سی سی آئی اینٹی کرپشن یونٹ نے بھی اپنی رپورٹس پیش کی جس کی بنیاد پر یہ امتناع عائد کیا گیا تھا چنانچہ اب بھی یہ برقرار رہے گا۔

TOPPOPULARRECENT