Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی اجازت نہیں

سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی اجازت نہیں

سخت ترین کرفیو سے راج بھون تک مارچ ناکام
سری نگر ، 14اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) وادی کشمیر کی سب سے بڑی عبادت گاہ تاریخی و مرکزی جامع مسجد میں مسلسل چودھویں جمعتہ المبارک کو بھی سخت ترین کرفیو اور بندشوں کے ذریعے نماز کی ادائیگی ناممکن بنادی گئی۔اس کے علاوہ کشمیر انتظامیہ نے جمعہ کو دارالحکومت سری نگر کے 6 پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو اور باقی ماندہ حصوں میں سخت ترین بندشیں عائد کرکے علیحدگی پسند قیادت کی طرف سے دی گئی ‘راج بھون’ تک مارچ کی کال ناکام بنادی۔ تاہم کرفیو اور سخت ترین بندشیں عائد رہنے کے باوجود وادی میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعددرجنوں مقامات پر آزادی حامی ریلیوں اور جلوسوں کا انعقاد کیا گیا۔بعض مقامات پر احتجاجی مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں کئی افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے سری نگر کے مزید علاقوں کو کرفیو کے دائرے میں لایا گیا تھا جبکہ وادی کے سبھی بڑے قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں لوگوں کو ایک جگہ جمع ہونے سے روکنے کے لئے بندشیں عائد کی گئی تھیں۔ امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے شمالی کشمیر کے ایپل ٹاون سوپور میں بھی کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔ اس دوران ‘راج بھون’ چلو کو ناکام بنانے کے لئے گپ کار اور بلیوارڈ روڑ پر سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی تھی۔موصولہ اطلاعات کے مطابق ‘راج بھون’ تک مارچ کی کال کو ناکام بنانے کے لئے نشاط، نہرو پارک اور رام منشی باغ کے تحت آنے والے علاقوں میں سخت ترین بندشیں عائد کی گئی تھیں۔

TOPPOPULARRECENT