Sunday , March 26 2017
Home / مذہبی صفحہ / سر کی آنکھ بصارت اور دل کی بصیرت ہے

سر کی آنکھ بصارت اور دل کی بصیرت ہے

اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ ان کے دل سمجھنے والے ہوتے یا ان کے کان سننے والے ہوتے ؟ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہیں ۔ (حج ۲۲:۴۶)
اس آیت کے آخری حصہ کی تفسیر کرتے ہوئے امام نسفی نے اپنی تفسیر مدارک التزیل میں تحریر فرمایاہے : ان کی آنکھیں اندھی نہیں ہوئیں بلکہ دل عبرت حاصل کرنے سے اندھے ہوگئے ہیں اور ہر انسان کی چار آنکھیں ہوتی ہیں ، دو سر میں اور دو دل میں۔ جب دل کی آنکھیں بینا ہوں تو سر کی آنکھوں کی اندھا ہونا نقصان دہ نہیں ، لیکن اگر سر کی آنکھیں بینا ہوں اور دل کی آنکھیں اندھی ہوں تو اس سے کوئی فائدہ نہیں۔ سینوں کا ذکر اس وضاحت کے لئے کیا ہے کہ علم کا محل ، دل ہی ہوتا ہے کیوں کہ دل ہی ہرچیز کا ادراک کرتا ہے ۔
علامہ نسفی کی یہ تفسیر، رسول اکرم ﷺ کے اُس ارشاد سے ماخوذ ہے جس میں آپ ﷺ نے فرمایاہے : دل کا اندھا ہونا سب سے بُرا اندھا پن ہے ۔ ( حدیث )
شاعر مشرق علامہ اقبالؔ نے اس لیے تو کہا ہے :
دل بینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور ، دل کا نور نہیں
میرے بھائی ! سر کی آنکھوں سے دیکھنا بصارت ہے اور دل کی آنکھوں سے دیکھنا بصیرت ہے ۔ بصارت کا فقدان ، صرف ایک محرومی ہے لیکن بصیرت کا فقدان بہت بڑی بدنصیبی ہے ۔ جو لوگ کسی چیز سے عبرت حاصل نہیں کرتے ، وہ فاقد البصر نہیں ، فاقد البصیرۃ ہوتے ہیں۔
صوفیہ کرام بحرعلم کے شناور ہی نہیں ، غواص بھی ہوتے ہیں۔ وہ معانی کے سمندر میں غوطہ لگاکر پاتال سے ایسے ایسے موتی چُن کر لاتے ہیں کہ بس دیکھا چاہئے ۔ یہ غوط خوری انھوں نے کہاں سے سیکھی؟ غواصی کا یہ فن انھیں کیسے حاصل ہوا؟
اچھی طرح یاد رکھو، خوابیدہ دلوں کو بیدار، اندھے دلوں کو بینا اور مردہ دلوں کو زندہ، ’ذکر الٰہی‘ سے کیا جاتا ہے ۔ یہی اس کا تریاق ہے ۔ جب بندہ ذکر کرتا ہے تو اس کی روحانی دنیا میں ہلچل مچ جاتی ہے ۔ دل مردہ کو زندگی مل جاتی ہے اور جب ذکر میں مداوت آجاتی ہے تو دل کو حیات جاوداں نصیب ہوجاتی ہے ۔
آئیں صوفیہ کرام کے ابصار کے نہیں اعتبار کے، تفسیر کے نہیں تعبیر کے کچھ نمونے دیکھتے ہیں:
الرحمن الرحیم : دونوں کا مصدر رحمت ہے ۔ اہل لغت کے نزدیک رحمن کے معنی ہیں: عام الرحمۃ ، سب پر رحم فرمانے والا ، اس میں شان رحمت کا عموم ہے ، یعنی اہل ایمان اور اہل کفر سب پر رحم فرمانے والا اور رحیم کے معنی ہیں : تام الرحمہ بھرپور رحم فرمانے والا ، اس میں شان رحمت کا خصوص ہے ، صر ف اہل ایمان کے لئے ، کافر اس رحمت سے محروم ہے ۔ اور پھر اس رحمت تمام کا کامل ظہور بھی آخرت ہی میں ہوگا ۔ اسی لئے حدیث میں آیا ہے :
الرحمان رحمن الدنیا والرحیم رحیم الاخرۃ
دنیا میں رحمن اور آخرت میں رحیم ۔
اب صوفیہ کی غواصی دیکھیں، فرماتے ہیں : رحمانیت سالک کی وہ تربیت ہے جو واسطوں کے ذریعہ سے ہوتی ہے اور رحیمیت وہ تربیت ہے جو براہ راست بلاواسطہ ہوتی ہے ۔
ایاک نعبد: ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں یعنی کسی اور کی نہیں ، صوفیہ کرام فرماتے ہیں یہ نسبت عبودیت ، سالک کے مقام کی انتہا ہے ، کوئی مقام عبودیت اس سے آگے نہیں ہے ۔ سالک کا مقام عبودیت اس پر تمام ہوجاتا ہے اور
ایاک نستعین : ہم صرف تجھی سے مدد چاہتے ہیں ۔ یہ سالک کا مقام تمکین ہے ، یہاں سال کی نظر ہر طرف سے پھرکر صرف ذات حق پر جم جاتی ہے ۔ سبحان اﷲ کیا انمول موتی ہے !
اھدنا الصراط المستقیم : صوفیہ اﷲ تعالیٰ سے ’رہنمائی‘ نہیں مانگتے کیوں کہ اس میں رہرو کے بھٹنے کا امکان ہے ۔ اس لیے وہ اھدنا الی الصراط المستقیم ، ہمیں سیدھا راستہ دکھا، نہیں کہتے بلکہ رہبری مانگتے ہیں اھدنا الصراط المستقیم ہمیں سیدھے راستہ پر لے چل ۔ یعنی وہ رہبر کو ساتھ رکھ کر چلنا چاہتے ہیں تاکہ بھٹنے کا کوئی امکان ہی نہ رہے ۔
ومما رزقنھم ینفقون : ہم نے ان کو جو کچھ دیا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں۔ رزق کا لفظ اپنے اندر بڑی وسعت رکھتا ہے ۔ اس میں ہر قسم کی نعمتیں آجاتی ہیں ، مادی بھی اور روحانی بھی۔ صوفیہ کرام کا کہنا ہے کہ جن کو روحانی نعمت عطا ہوتی ہے وہ طالبین کو پہنچاتے رہتے ہیں۔ چنانچہ فیضان مرشد بھی اس میں شامل ہے ۔
… جاری ہے

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT