Tuesday , August 22 2017
Home / ہندوستان / سزاء یافتہ قانون ساز کو فی الفور نااہل قرار دینے کا مطالبہ

سزاء یافتہ قانون ساز کو فی الفور نااہل قرار دینے کا مطالبہ

الیکشن کمیشن کی حمایت۔ قانونی رکاوٹوں کا بھی اعتراف
نئی دہلی۔ 7 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) الیکشن کمیشن نے آج فوجداری مقدمات میں سزاء پانے پر قانون سازوں (ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی) کو فی الفور نااہل قرار دینے کا مطالبہ کی حمایت کی ہے لیکن سپریم کورٹ میں یہ کہا ہیکہ اس طرح کے اقدام میں انتخابی قوانین رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے بتایا کہ سزاء یافتہ قانون ساز اس وقت تک رکن پارلیمنٹ اور اسمبلی کی حیثیت سے اپنے اختیارات سے استفادہ کرسکتے ہیں تاوقتیکہ لوک سبھا یا راجیہ سبھا اور متعلقہ اسمبلیوں کے پرنسپل سکریٹری نااہل قرار دینے کا اعلامیہ جاری نہ کریں۔ الیکشن کمیشن کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ میناکشی ارودا نے چیف جسٹس ٹی آر ایس ٹھاکر کی زیرقیادت بنچ کے روبرو کہا کہ مخلوعہ نشست کیلئے انتخابی اعلامیہ کے اجرائی کے بعد ہی الیکشن کمیشن کارروائی کیلئے پیشرفت کرسکتی۔ جسٹس ڈی وائی چندراچوڈ اور جسٹس ناگیشور را پر مشتمل بنچ ہے۔ ان حالات کے بارے میں جانکاری طلب کی کہ ٹرائبل کورٹ کے احکامات پر کب حکم التواء یا معطل کیا جاسکتا ہے۔ ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل منندر سنگھ نے کہا کہ ایک قانون ساز راحت حاصل کرسکتے ہیں اگر عدالت العالیہ کی جانب سے سزاء کے خلاف حکم التواء یا معطل کیا جائے لیکن محض سزاء پر تعمیل کو روک دینے سے رکن پارلیمنٹ رکن اسمبلی کی سزاء مؤخر نہیں ہوسکتی۔ مسٹر ارودنے بتایا مروجہ طریقہ کار علدیہ کے فیصلوں میں رخنہ پیدا کرسکتا جوکہ سزاء یافتہ قانون ساز کو فی الفور نااہل قرار دینے کا متقاضی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ  ایسی کوئی قانونی دفعہ نہیں ہیکہ ٹرائیل کورٹ کا حکم، خودبخود الیکشن کمیشن کو معطل ہوجائے۔ انہوں نے بتایا کہ پارلیمنٹ یا اسمبلی کے سکریٹریٹ کی جانب سے مخلوعہ نشست کا اعلان کیا جائے بعد میں الیکشن کمیشن کارروائی کیلئے پہل کرتا ہے۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو حلفنامہ داخل کرنے اور متعلقہ محکمہ سے ہدایات حاصل کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے معاملہ کی سماعت 4 ہفتوں کیلئے ملتوی کردیا۔

TOPPOPULARRECENT