Monday , May 29 2017
Home / اداریہ / سستی ادویات کی تشخیص

سستی ادویات کی تشخیص

میرے تصوّرات سے گذرے ہیں وہ ضرور
سائے دکھائی دیتے ہیں دیوار کی طرف
سستی ادویات کی تشخیص
وزیراعظم نریندر مودی کے اس فیصلہ کی مکمل حمایت کے ساتھ کہ انھوں نے ڈاکٹروں کو سستی دوائیں تشخیص کرنے کا قانون لانے کا فیصلہ کیا ہے غریب مریضوں کو مہنگی دواساز کمپنیوں کی اجارہ داری سے راحت ملے گی مگر غور طلب امر یہ ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی ایک طرف جنرک ڈرگس کی تشخیص کے لئے ڈاکٹروں کو پابند بنانے والا قانون لانا چاہتے ہیں،دوسری طرف ان ادویات تک عام مریضوں کی رسائی ایک تشویش کا معاملہ ہوتی ہے ۔ ہندوستان جیسے کثیرالوجود ملک میں جہاں کی آبادی دیہی سطح پر بہتر صحت و نگہداشت سہولتوں سے محروم ہے اور شہری علاقوں کے گنجان و سلم علاقوں میں مقیم افراد کیلئے بھی ایک اچھی صحت مند زندگی گذارنا دن بہ دن مشکل ہوتا جارہا ہے ۔ ایسے میں زندگی بچانے والی ادویات کو سستے داموں میں دستیاب کرانے سے مریضوں کا فائدہ ہوتا ہے تو یہ ایک اچھی تبدیلی ہے۔ ملک بھر میں میڈیکل کالجوں اور سرکاری دواخانوں کی نگرانی کرنے والے اداروں نے بھی سستی دواؤں کی سفارش کی ہے ۔ خاص کر میڈیکل کونسل آف انڈیا نے جو ملک کی میڈیکل تعلیم کا نگرانکار سپریم ادارہ ہے ڈاکٹروں کو جنرک ڈرگس کے استعمال کی ترغیب دینے کی سفارش کی ہے ۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ ملک میں جنرک دوائیں دستیاب نہیں ہیں۔ چھوٹے چھوٹے علاقوں اور دیہی سطح پر پریکٹس کرنے والے ڈاکٹرس جنرکس دواؤں کی ہی تشخیص کرتے ہیں لیکن ان دواؤں کے حصول اور ان کے معیار کی جانچ کا جو پیمانہ ہونا چاہئے اس میں کچھ خامیاں ، کوتاہیاں پائی جاتی ہیں۔ ان ادویات کی تیاری میں بھی کئی کمپنیاں میدان میں اُتری ہیں اور کسی خاص برانڈ کے نام کی تشخیص کرنے سے صرف ایک ہی کمپنی کو فائدہ ہوگا۔ مارکٹ میں میڈیکل نمائندوں کی اوردواخانوں یا ڈاکٹروں سے رابطہ کاری کی مہم کے تحت ہی یہ دوائیں مارکٹ یا میڈیکل شاپس میں دستیاب ہوتی ہیں ۔ ان کی قیمتیں بھی مختلف دواخانوں یا دوکانوں میں مختلف ہوتی ہیں جن پر اگرچیکہ اصول و ضوابط لاگو ہیں مگر نگرانی پر کوئی عمل نہیں کرتا اور نہ ہی اس جانب کوئی خاص دھیان دیا جاتا ہے ۔ جنرک دوائیں ڈاکٹروں یا پرائیویٹ دواخانے چلانے والوں کیلئے بھی فائدہ مند ہیں یہ دوائیں سستی ہوتی ہیں ،ان سے استفادہ کرنے والے نرسنگ ہومس یا دواخانے ، مریضوں سے من مانی فیس لیتے ہیں جہاں دیانتدارانہ پیشہ طب پر دھیان دیا جاتا ہے وہاں مریضوں کی صحت سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہوتا اور دواخانہ کا انتظامیہ یا ڈاکٹرس پوری دیانتداری سے اچھی دوائیں تشخیص کرتے ہیں لیکن اکثر ایسے خانگی دواخانے یا پرائیوٹ پریکٹس کرنے والے ڈاکٹرس و کلینکس جہاں دو چار بستروں کے ساتھ مریضوں کا علاج کرتے ہیں وہاں اکثر یہ شکایت ہوتی ہے کہ مریضوں کو جلد صحت نصیب نہیں ہوتی یا غلط تشخیص کی وجہ سے مریض کی جان بھی چلی جاتی ہے۔ نیم حکیم خطرے جان کے مصداق بعض دواخانوں یا بعض ڈاکٹرس کا رویہ تلخ اور جان لیوا ہوتا ہے ۔ یہ بات آئے دن خبروں میں رہتی ہے کہ دواخانہ میں صحیح علاج یا تشخیص نہ ہونے سے مریض کی موت واقع ہوگئی ۔ جنرک دوائیں عام کرنے کی تجویز کے ساتھ وزیراعظم نریندر مودی کو ملک بھر کے طبی اداروں اور اس پیشہ سے وابستہ افراد کیلئے مروج اصولوں پر سختی سے عمل کرنے کا پابند بنانے کی بھی کوشش کرنی چاہئے ۔ مریض یا مریض کے ساتھ دواخانہ آنے والے رشتہ داروں سے دواخانہ انتظامیہ پیشگی طبی فارم پر دستخط کرواکر کسی بھی نفع و نقصان کی ذمہ داری خود مریض اور ان کے رشتہ داروں کے سپرد کردی جاتی ہے اس طرح کا عمل خود کو مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کی برہمی و قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کی ایک کوشش ہوتی ہے۔ مگر دیانتداری اور پیشہ طب کے اصولوں پر سختی سے عمل کیا جائے تو مریضوں کے ساتھ ہمدردی رکھنے اور بہتر علاج کی کوشش کرنے میں آسانی ہوگی ۔ سستی دواؤں کو عام کرنے ، ان کی دستیابی کو یقینی بنانے اور جنرک دوایات کے مراکز کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے ۔ میڈیکل اینڈ سرجیکل سے مربوط تمام اداروں کے لئے جو رہنمایانہ اصول پائے جاتے ہیں ان کو عالمی صحت کے معیارات پر عمل کرنے کا پابند بنانا بھی ضروری ہے۔ سرجیکل اشیاء کی تیاری اور ان کی نکاسی میں معروف کمپنیاں عالمی صحت کے معیارات کو نظرانداز کرکے سستے سے سستی اشیاء فروخت کرنے پر دھیان دیتی ہیں اور ہر شئے کی اصل قیمت سے چار گنا بڑھ کر ایم آر پی لگایا جاتا ہے،یہ مریضوں اور ضرورتمندوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے ۔ لہذا وزیراعظم نریندر مودی کے اس جنرک ادویات کو تشخیص کرانے اور ڈاکٹروں کو پابند بنانے کی کوشش ، قانون لانے کے ساتھ مریضوں کی مجموعی صحت و بہتر زندگی کیلئے ہندوستان میں پہلے ہی سے مروج اصول اور ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کو یقینی بنانا ضروری ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT