Friday , July 28 2017
Home / اضلاع کی خبریں / سسرال والوں کی ہراسانی کا شکار خاتون کی خودکشی

سسرال والوں کی ہراسانی کا شکار خاتون کی خودکشی

بھینسہ ۔ 8 جولائی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) بھینسہ ڈیویژن تانور منڈل کے موضع جھری بی کی نوجوان خاتون کی مشتبہ موت پر پوسٹ مارٹم سے قبل افراد خاندان کا زبردست راستہ روکو احتجاج متوفی اور خاتون کے شوہر اور ساس کی جانب سے ہراساں کرنے اور ظلم کرنے کو موت کا سبب بتایا۔ تفصیلات کے بموجب گجاوا بائی 26 سال کنٹالہ منڈل کے موضع مدن پلی کی شادی پانچ سال قبل تانور منڈل کے موضع جھری بی کے متوطن جی بابو سے ہوئی تھی اور ان دونوں کو ایک ڈھائی سالہ لڑکی بھی ہے۔ بتایا گیا ہیکہ متوفی گجاوا بائی کو اس کے شوہر جی بابو اور ساس کی جانب سے ہمیشہ پیسوں کیلئے ہراساں کرتے ہوئے ظلم کیا جاتا تھا اور گذشتہ روز بھی متوفی خاتون اور اس کی ساس و سسرالی افراد کے درمیان بحث و تکرار ہونے پر حالات سے دلبرداشتہ ہوکر گجاوا بائی نے زہریلی دوا پی لی جس کے باعث موت واقع ہوگئی۔ نعش کو پوسٹ مارٹم کیلئے بھینسہ سرکاری دواخانہ منتقل کیا گیا جہاں متوفی کے افراد خاندان نے بھینسہ سرکاری دواخانہ میں احتجاج منظم کیا اور بس اسٹانڈ کے روبرو راستہ روک کر زبردست احتجاج منظم کیا اور الزام عائد کیا کہ گجاوا بائی کے شوہر، ساس اورسسرالی افراد کی جانب سے پیسوں کیلئے ہراساں کرنے اور ظلم و ستم کرنے کے باعث اس کی موت واقع ہوئی ہے۔ اس لئے اس کے شوہر و سسرالی افراد کو گرفتار کرتے ہوئے سخت سزاء دی جائے اور اس کی ڈھالی سالہ لڑکی کو معاوضہ فراہم کیا جائے۔ اس احتجاج کی اطلاع پاکر بھینسہ سرکل انسپکٹر اے رگھو نے سب انسپکٹر عبدالنظیر والے تروپتی کے ہمراہ مقام احتجاج پہنچ کر احتجاجیوں کو منتشر کیا۔ بعدازاں ڈی ایس پی بھینسہ اندے راملو، مدہول سرکل انسپکٹر رگھوپتی اور تانور انچارج تحصیلدار وینکٹ رمنا نے بھینسہ سرکاری دواخانہ پہنچ کر نعش کا مکمل معائنہ کرتے ہوئے پنچنامہ کیا اور متوفی خاتون کے افراد خاندان کو تیقن دیا کہ اس واقعہ کی ہر زاویہ سے تحقیقات کرتے ہوئے حقائق کو منظرعام پر لایا جائے گا اور اس ضمن میں ایک کیس درج کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT