Sunday , August 20 2017
Home / کھیل کی خبریں / سسٹم میں عدم تبدیلی پر آسٹریلین کرکٹ کے تاریک دن دور نہیں : ایان چیاپل

سسٹم میں عدم تبدیلی پر آسٹریلین کرکٹ کے تاریک دن دور نہیں : ایان چیاپل

کینگروز ٹیم میں بنیادی تبدیلوں کا مطالبہ، بیٹنگ لائن اپ میں گہرائی ختم ہو چکی۔ سابق آسٹریلیائی کپتان کے تاثرات

سڈنی ، 11 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) انگلینڈ کے ہاتھوں عبرتناک شکست کے بعد سابق آسٹریلین کپتان ایان چیاپل نے کرکٹ کے سسٹم میں بنیادی تبدیلیوں کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کینگرو ٹیم 2011ء میں کئے گئے ’آرگس ریویو‘ کے بعد اپنی بدترین حالت کو جا پہنچی ہے اور اگر ڈومیسٹک کرکٹ میں بیٹنگ کی گہرائی نہ پیدا کی گئی تو آسٹریلین کرکٹ کے تاریک دن دور نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایشز سیریز کے اختتام پر مائیکل کلارک کی ریٹائرمنٹ اور ممکنہ طور پر کرس راجرز کی رخصتی کے بعد آسٹریلیا کو ٹاپ چھ میں دو نئے بیٹسمنوں کی ضرورت ہوگی لیکن ان کے متبادل دکھائی نہیں دے رہے اور حقیقت یہی ہے کہ حالیہ عرصے میں سامنے آنے والے بیشتر بیٹسمین بوڑھے ہو چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کرس راجرز، آڈم ووجز، جارج بیلی، ایڈ کوان اور راب کوئنی سمیت تمام کھلاڑی آسٹریلیا کے ناکام نظام کا ثبوت ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ عام طور پر ایسے کھلاڑیوں کے انتخاب کیلئے سلیکشن کمیٹی کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا لیکن وہ سلیکٹرز سے محض اظہار ہمدردی ہی کر سکتے ہیں کیونکہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں نوجوان اور باصلاحیت کھلاڑی تلاش ہی کرتے رہتے ہیں جو موجود ہی نہیں۔انہوں نے آسٹریلین کرکٹ کے نظام کو ’فیل‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آرگس ریویو وقت کا ضیاع تھا کیونکہ آسٹریلیا کی ناکامی اس جگہ سے شروع ہوتی ہے جہاں گیند گھوم رہی ہو، خواہ وہ فاسٹ بولرز ہوں یا اسپن بولرز۔ آسٹریلین بیٹسمین ایسے بولروں کا سامنا نہیں کرپاتے۔ ایان چیاپل کا کہنا تھا کہ بیشتر نوجوان کھلاڑی ہندوستان جاتے وقت یہ بات اپنے ذہن میں لے کر جاتے ہیں کہ انہیں آئی پی ایل کا کنٹراکٹ مل جائے گا جس کیلئے وہ ایک اوورمیں آٹھ رنز کی اوسط سے کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ خود کو بلند پایہ ہٹر ثابت کر سکیں اور اسی چکر میں وہ اپنی تکنیک بھی قربان کر ڈالتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بیشتر لوگ بیٹنگ کی بہتری کے دعوے کرتے ہیں لیکن آسٹریلیا کی بیٹنگ بہتر نہیں ہوئی بلکہ ہٹنگ بہتر ہو گئی ہے اور بیٹنگ پر کوئی فرق نہیں پڑا مگر اس کیلئے وہ نوجوان کھلاڑیوں کو کوئی الزام نہیں دیں گے۔ سابق کپتان کے مطابق آسٹریلین کرکٹ کی سب سے اہم بہتری یہ ہو سکتی ہے کہ 17 سے 18 سال کے نوجوان کھلاڑیوں کی شفیلڈ شیلڈ کرکٹ میں کھیلنے کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ وہ اس معیار پر اپنے کھیل کو بہتر بنا سکیں مگر یہ بات اپنی جگہ ہے کہ آنے والے عرصے میں نئے ٹسٹ کپتان اسٹیون اسمتھ کو سنجیدہ نوعیت کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔

TOPPOPULARRECENT