Wednesday , September 20 2017
Home / Top Stories / سعودی خواتین کو اب اعلیٰ تعلیم اور سفرکیلئے سرپرست کی اجازت کی ضرورت نہیں

سعودی خواتین کو اب اعلیٰ تعلیم اور سفرکیلئے سرپرست کی اجازت کی ضرورت نہیں

شاہ سلمان کے حکمنامہ پر مختلف این جی اوز سے وابستہ مسلم خواتین کا ملاجلا ردعمل
ریاض ۔ 5 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سعودی خواتین کو اب ا پنے بعض فرائض انجام دینے کیلئے کسی مرد کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوگی۔ مقامی میڈیا کے مطابق شاہی حکمنامہ محدود نوعیت کا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ سعودی عرب دنیا کے چند ایسے مسلم ممالک میں شامل ہے جہاں خواتین کی روزمرہ سرگرمیوں پر بہت زیادہ پابندیاں ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہیکہ سعودی عرب ہی وہ واحد ملک ہے جہاں خواتین کو کار چلانے کی اجازت نہیں ہے۔ گارڈین شپ (سرپرستی) نظام کے تحت خاندان کا کوئی مرد رکن جیسے باپ، شوہر یا بھائی کسی خاتون کو اعلیٰ تعلیم کیلئے، سفر کرنے کیلئے اور دیگر سرگرمیوں کیلئے جب تک اجازت نہ دے وہ پیشرفت نہیں کرسکتی۔ البتہ عرب نیوز نے جو اطلاع دی ہے اس کے مطابق شاہ سلمان کی جانب سے جو فتویٰ (حکمنامہ) جاری کیا گیا ہے اس میں کسی بھی خاتون کو بعض سرگرمیاں انجام دینے کیلئے خاندان کے کسی مرد کی اجازت کی اس وقت تک ضرورت نہیں جب تک اسلامی قوانین کے مطابق اس کیلئے کوئی قانونی جواز موجود نہ ہو۔ سعودی میڈیا میں خصوصی طور پر سبق آن لائن نیوز پیپر جسے حکام کا ترجمان سمجھا جاتا ہے، نے بھی اسی نوعیت کی رپورٹس شائع کی ہے۔ دوسری طرف جدہ میں خواتین کی حقوق کی ایک رکن سحرحسن نصیف نے اس معاملہ پر شاہی فتوے کا خیرمقدم کیا ہے۔ تاہم اس بات پر شبہات کا اظہار کیا ہیکہ نئے حکمنامہ کے ذریعہ آخر کس قسم کی تبدیلی واقع ہوگی۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم سرپرستی سے مکمل طور پر چھٹکارہ پانا چاہتے ہیں۔ گلف کوسٹ سٹی قاطف کی ایک خاتون رکن نسیمہ السدہ نے کہا کہ انہیں اس بات پر شک ہیکہ حکومت سرپرستی کے نظام کو مکمل طور پر ختم کردے گی۔ ہوسکتا ہیکہ اس میں کچھ کمی ہوجائے لیکن مکمل طور پر خاتمہ تو ممکن نظر نہیں آتا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہیکہ گذشتہ سال ہزاروں افراد نے دستخطی مہم چلاتے ہوئے سرپرستی کے نظام کو ختم کروانے کی کوشش کی تھی۔ واضح رہیکہ سعودی عرب کو بعض ’’نام نہاد ترقی پسند اسلامی ممالک‘‘ قدامت پسند تصور کرتے ہیں جبکہ سعودی فرمانروا ملک کی ترقی کیلئے کوشاں ہیں۔

وہ یہ بات سمجھتے ہیں کہ خواتین کو بھی آزادی کی ضرورت ہے لیکن وہ یہ بات بھی کہتے ہیں کہ خواتین قید نہیں ہیں۔ آزادی کا مطالبہ تو وہ لوگ کرتے ہیں جو قید ہوں یا غلام ہوں۔ سعودی عرب میں خواتین کو ہر طرح کی سہولیات حاصل ہیں۔ اگر ڈرائیونگ کی اجازت نہیں دی جاتی تو اس میں کوئی آسمان ٹوٹنے والی بات نہیں ہے۔ مغربی ممالک بھی اپنے میڈیا کے ذریعہ ’’اسلام میں خواتین کی حالت زار‘‘ کے بارے میں وقتاً فوقتاً مضامین شائع کرتے رہتے ہیں جو دراصل سعودی خواتین کو ورغلانے کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔ جاریہ سال اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر فلپ آلسٹن نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا اور کہا تھا کہ سرپرستی کے نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ بعض اراکین کا کہنا ہیکہ اگر کوئی خاتون سزائے قید کاٹ رہی ہے تو اس کی سزاء کی تکمیل اور جیل سے رہائی کے بعد بھی اس کے خاندان کے کسی بھی مرد کو (باپ، بھائی، شوہر) اس کی پذیرائی کرنی چاہئے کیونکہ اکثر ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہیکہ خاتون کی جیل سے رہائی کے بعد اس کے خاندان کے کسی بھی مرد کی جانب سے اسے قبول نہ کئے جانے پر خاتون کو اپنی مقررہ میعاد سے زائد جیل یا شیلٹر ہومس میں رہنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ حالانکہ کسی بھی سعودی خاتون کو ملازمت کرنے کیلئے حکومت خاندان کے کسی بھی مرد کی اجازت کی ضرورت نہیں سمجھتی اس کے باوجود ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہیکہ آجرین کسی بھی خاتون کو ملازم رکھنے سے قبل خاتون کے خاندان کے کسی مرد کی جانب سے اجازت نامہ طلب کرتے ہیں جبکہ بعض ہاسپٹلس میں بھی جب خواتین علاج کیلئے پہنچتی ہیں تو ان سے خاندان کے کسی مرد کا اجازت نامہ  طلب کیا جاتا ہے۔ سعودی عرب کو قدامت پسند ملک کہنا درست نہیں بلکہ شرعی اعتبار سے خواتین پر جو پابندیاں صرف ان کا ہی اطلاق کیا جاتا ہے اور وہ بھی سختی سے نہیں بلکہ میانہ روی اختیار کی جاتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT