Sunday , October 22 2017
Home / عرب دنیا / سعودی خواتین کو حق رائے دہی کے استعمال کی اجازت

سعودی خواتین کو حق رائے دہی کے استعمال کی اجازت

بلدی انتخابات کیلئے مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ میں رجسٹریشن کا آغاز

ریاض ۔ 21 اگست (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کی تاریخ میں خواتین کو پہلی بار کسی انتخابات میں رائے دہی کا حق دیا گیا ہے۔ مملکت کے اہم عہدیداروں نے اس اقدام کو ترقی کی جانب ایک اہم پیشرفت سے تعبیر کیا ہے۔ یاد رہے کہ جاریہ سال کے اواخر میں ملک بھر بلدی انتخابات منعقد ہونے والے ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں خواتین کے حقوق انتہائی محدود ہیں، حق رائے دہی کا استعمال ایک بہت بڑا سنگ میل ہے۔ انہیں نہ صرف ووٹ دینے کا حق دیا گیا ہے بلکہ اگر وہ چاہیں تو انتخابات میں بطور امیدوار بھی ٹھہر سکتی ہیں۔ سعودی گزٹ کے مطابق دو خواتین جمال السعدی اور سفتیاز ابوالشمعط ملک کی تاریخ میں پہلی دو خواتین بن چکی ہیں جن کا نام فہرست رائے دہندگان میں شامل کیا گیا۔ انہوں نے بالترتیب مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے الیکٹورل دفتر جاکر اپنا نام رجسٹر کروایا۔ رجسٹریشن کا سلسلہ 21 دنوں تک جاری رہے گا۔ تاہم شمعط نے بتایا کہ وہ خود کو پہلی خاتون ووٹر کی حیثیت سے رجسٹر کروانے میں بیحد دلچسپی رکھتی تھی۔

لہٰذا اس نے دفتر کا عاجلانہ دورہ کیا تاکہ یہ سنہری موقع ہاتھ سے نہ نکل جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہر خاتون کیلئے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنا قومی فریضہ تصور کیا جانا چاہئے جیسا کہ دیگر جمہوری ممالک میں ہوتا ہے۔ شاہ عبداللہ نے 2011ء میں ہی اعلان کیا تھا کہ خواتین کو حق رائے کا استعمال کرنے کی اجازت ہوگی اور اس کے بعد سے ہی آن لائن رجسٹریشن کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا تھا، جسے سماجی جہدکاروں نے بھی ایک انقلابی قدم سے تعبیر کیا تھا۔ 2011ء میں خواتین نے اپنے رجسٹریشن کے لئے کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی تھی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل یو کے کے کرن مڈلٹن نے کہا تھا کہ خواتین کیلئے جو کچھ فیصلہ کیا گیا ہے وہ یقینی طور پر خوش آئند ہے لیکن مساوی حقوق دیئے جانے کی جانب اب بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہیکہ اگر سعودی عرب کی خواتین ووٹ دینے کے لئے پولنگ بوتھس پہنچنا چاہیں گی تو وہ اپنی کار خود ڈرائیو نہیں کرسکیں گی کیونکہ خواتین کی کار ڈرائیونگ پر امتناع عائد ہے۔

TOPPOPULARRECENT