Saturday , August 19 2017
Home / پاکستان / سعودی زیرقیادت فوجی اتحاد 41 عرب، ایشیائی و افریقی ممالک کا مسلم ناٹو

سعودی زیرقیادت فوجی اتحاد 41 عرب، ایشیائی و افریقی ممالک کا مسلم ناٹو

اسلام آباد ۔ 11 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) دہشت گردوں کے خلاف مقابلے کے لئے سعودی عرب کی قیادت میں تشکیل شدہ فوجی اتحاد کو ’’مسلم ناٹو‘‘ کہا جارہا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے عرب و مسلم ممالک میں اسلامک اسٹیٹ (داعش) کی بڑھتی ہوئی طاقت کے خلاف مقابلے کیلئے سب سے پہلے سعودی عرب نے 2015ء میں  اس فوجی اتحاد کی تشکیل کی تجویز پیش کی تھی۔ ’’مسلم ناٹو‘‘ کہے جانے والے اس فوجی اتحاد میں ایشیاء، مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے ایسے 41 ممالک شامل ہیں، جن میں سنی مسلمانوں کی غالب آبادی ہے۔ اس میں پاکستان اور سعودی عرب کے علاوہ ترکی، متحدہ عرب امارات، بنگلہ دیش، مصر، ملائیشیاء، نائجیریا، یمن اور دوسرے ممالک بھی شامل ہیں۔ شیعہ اکثریتی ممالک ایران، عراق اور شام کو اس اتحاد سے باہر رکھنا یہ واضح کردیا ہے کہ سعودی عرب کو دہشت گردی کے خلاف مقابلہ  کرنے کوئی دلچسپی نہیں ہے بلکہ وہ اپنے علاقائی حریف ایران سے جغرافیائی و سیاسی رقابت پر توجہ مرکوز کررہا ہے۔ اس اتحاد کیلئے سعودی عرب ہی سب سے زیادہ فنڈز فراہم کررہا ہے۔ اس گروپ میں پاکستان کی شمولیت سے پاکستان کو مسئلہ کشمیر پر ہندوستان کے ساتھ جاری تنازعہ پر سنی مسلم ممالک کی تائید میں بھی اضافہ ہوگا۔ پاکستان کے سابق فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف اس گروپ کی قیادت کررہے ہیں۔ سعودی عرب کے زیرقیادت اس اتحاد میں شمولیت کے فیصلہ پر اس ملک (پاکستان) کے شیعہ مسلمان ناراض ہیں جو آبادی کا 20 فیصد حصہ ہیں۔ اس اقدام سے پاکستان میں شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان اختلافات میں مزید شدت پیدا ہونے کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے اپنی پارٹی کے قائدین کو اس گروپ کی قیادت کے لئے اپنی فوج کے سابق سربراہ راحیل شریف کے تقرر پر متنازعہ بیانات دینے سے روک دیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT