Tuesday , October 17 2017
Home / کھیل کی خبریں / سعودی شہزادی ریما خواتین کے کھیلوں کی سربراہ مقرر

سعودی شہزادی ریما خواتین کے کھیلوں کی سربراہ مقرر

ریاض، 3 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب نے شہزادی ریمابنت بندر بن سلطان کوملک میں خواتین کے کھیلوں کی نگران مقرر کردیا جبکہ اولمپک میں نمائندگی کرنے والی خواتین کی تعداد بھی دوگنی کردی ہے۔ سعودی عرب کی دوخاتون اتھلیٹس سارہ العطار اور وجود فہمی نے 2012ء کے لندن اولمپکس میں حصہ لیا تھا اور وہ اولمپکس میں حصہ لینے والی پہلی سعودی خواتین تھیں۔ نیوز ایجنسی’ اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی سرکاری ایجنسی کا کہنا ہے کہ شہزادی ریما کو مملکت کی وزارت کھیل کے خواتین کے شعبے کی سربراہ مقرر کردیا گیا ہے۔ تاہم اُن کی ذمہ داریوں کا تعین نہیں کیا گیا۔ شہزادی ریما سعودی عرب کے بااختیار شہزادوں میں شمار کئے جانے والے بندر بن سلطان کی بیٹی ہیں جو امریکہ میں 2005ء تک لگ بھگ 22 سال سعودی عرب کے سفیر رہے تھے۔ سعودی عرب کی وزارت کھیل کے شعبہ خواتین کی سربراہ مقرر ہونے والی ریما نے اپنی تعلیم امریکہ سے مکمل کی۔ سرکاری خبررساں ادارہ کے مطابق شہزادی ریما نے کہا کہ ’’مجھے اپنی قوم کی خدمت کا موقع ملنے پر فخر ہے‘‘۔ سعودی عرب کو سخت گیر مذہبی ملک تصور کیا جاتا ہے جہاں حجاب کے بغیر خواتین باہر نہیں نکل سکتیں جبکہ خواتین کو گاڑی چلانے پر بھی پابندی عائد ہے۔ برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں ہونے والے اولمپک مقابلوں میں شرکت کیلئے چار سعودی خواتین اتھلیٹس اور سات مردوں پر مشتمل دستہ ریو پہنچ چکا ہے۔ ریو اولمپک میں سعودی عرب کی نمائندگی کرنے والی اتھلیٹس سارہ العطار دوڑمیں، وجود فہمی، جوڈو، لبنیٰ العمیرفینسر اور کریمن ابو الجدال 100 میٹر ریس کے مقابلوں میں حصہ لیں گی۔ واضح رہے کہ سارہ اور وجود فہمی لندن اولمپکس میں حصہ لینے کے چار سال بعد اولمپک مقابلوں میں دوبارہ واپس آگئی ہیں۔ سعودی حکومت نے 2014ء میں پہلی دفعہ خواتین کو کھیلوں کی سرگرمیوں میں عائد پابندیوں کو ختم کی تھی اور اسکولوں میں لڑکیوں کو کھیلوں کی سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ سعودی حکام نے 2009ء اور 2010ء میں ملک میں خواتین کے جمز کو تالے لگاتے ہوئے خواتین کو کھیلوں کے میدان میں حصہ لینے پر سخت قوانین متعارف کرادیئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT