Sunday , August 20 2017
Home / عرب دنیا / سعودی عرب ، ایران سے مشروط مذاکرات کیلئے تیار

سعودی عرب ، ایران سے مشروط مذاکرات کیلئے تیار

ایران پر شام سے فوج نکالنے پر زور ۔ باہمی کشیدگی دور کرنے کی سعی ۔ پرنس ترکی بن فیصل کا بیان
ریاض، 17 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کے شاہی خاندان کے ایک سینئر رکن پرنس ترکی بن فیصل السعود نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہے، بشرطیکہ شام سے ایران اپنے فوجی ہٹانے کیلئے رضامند ہو۔ مشرق وسطیٰ میں ایران اور سعودی عرب ایک دوسرے کے مخالف تسلیم کئے جاتے ہیں۔ شام کے بحران میں جہاں ایران صدر بشار الاسد کی حکومت کے ساتھ ہے وہیں سعودی عرب ان کے مخالفین کا حامی ہے۔ لیکن پرنس ترکی نے برطانوی نشریاتی ادارہ کے ساتھ بات چیت میں عندیہ دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی ختم ہو سکتی ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے ایران کے سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کا ذکر کیا جو ان کے مطابق 1980ء کی دہائی میں سابق سعودی شاہ عبداللہ کے ساتھ مل کر دونوں ممالک درمیان علیحدگی کے دور کو ختم کرنے میں کامیاب رہے تھے۔ بی بی سی کی فارسی سرویس کو انٹرویو میں انھوں نے مزید بتایا کہ دونوں ممالک کے بہت سے مشترکہ مفاد ہیں جو انھیں ایک دوسرے کے قریب لا سکتے ہیں۔ سعودی پرنس نے کہا کہ شام سے بڑی تعداد میں اپنے فوجی ہٹانے کے روس کے فیصلے پر انھیں حیرت ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس فیصلے سے شام میں امن کیلئے ہونے والی موجودہ کوششوں کو تقویت ملے گی اور وہاں جاری خونریزی کو بھی روکنے میں مدد ملے گی۔ انھوں نے کہا کہ تمام غیر ملکی فوجیوں کو شام سے چلے جانا چاہئے، شام کے لوگ ایسے اقدام کا خیرمقدم کریں گے۔ امریکی صدر براک اوباما سے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے پرنس ترکی نے کہا کہ اوباما کو ان کے ملک پر بے بنیاد الزامات کا جواب دینا ہی ہو گا۔ اوباما نے سعودی عرب سمیت امریکہ کے کئی اتحادی ممالک کو ’’فری رائیڈرز‘‘ یعنی مفت خور کہا تھا۔ کنگ فیصل ریسرچ اینڈ اسلامک اسٹڈیز کے چیئرمین اور سعودی خفیہ ادارہ کے سابق سربراہ نے کہا کہ ان کا ملک ذمہ دار خود مختار ملک ہے اور اس نے کبھی کوئی ’مفت سواری‘ نہیں کی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب دنیا میں دہشت گردی پھیلانے والا ملک نہیں ، جیسا کہ الزام لگایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ’’ہم دہشت گردی کے سب سے بڑے شکار ہیں‘‘۔

TOPPOPULARRECENT