Saturday , September 23 2017
Home / مضامین / سعودی عرب اور تارکین وطن

سعودی عرب اور تارکین وطن

 

کے این واصف
سعودی حکومت کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن کو دی جانے والی مہلت ماہ شوال میں ختم ہوئی ۔ مہلت کی مدت سے فائدہ اٹھاکر 6 لاکھ سے زائد تارکین جن کا قیام کسی وجہ سے غیر قانونی ہوگیا تھا ، اپنے وطن لوٹ گئے لیکن تارکین وطن جن کی ا پنی کمپنیوں کے ساتھ معاملات طئے نہیں ہوپائے وہ ابھی تک یہیں مقیم ہیں۔ اُن کی تعداد بھی قابل لحاظ ہے ۔ واضح رہے کہ یہاں بن لادن کمپنی سمیت کچھ بڑی کمپنیاں مختلف وجوہات کی بناء پر بند ہوگئیں تھیں اور جن کے ملازمین کے بقایا جات وغیرہ کے معاملے ان کی کمپنیوں نے پوری طرح ادا نہیں کئے ۔ یہ تارکین اپنے حقوق کی وصولی کے انتظار میں یہیں رکے ہوئے ہیں۔ اب چونکہ ایک لمبا عرصہ گزر گیا تو اس بیچ ان کے اقامے کی مدت ختم ہوگئی جس کی وجہ سے قانون کے مطابق ان کی حیثیت غیر قانونی ہوگئی ۔ اب جو کمپنیاں مہینوں سے اپنے ملازمین کی تنخواہ ادا نہیں کر پارہی ہیں ، وہ اپنے ملازمین کے اقامے کہاں تجدید کروائے گی ۔ سب جانتے ہیں کہ یہاں جس شخص کے اقامے کی مدت ختم ہوجاتی ہے ، اس کا گھر سے باہر نکلنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ دو روز قبل ایک نیا اعلان بھی آیا کہ مقیم غیر ملکی کے اقامہ کی تجدید اس کے ختم ہونے سے تین دن قبل ضروری ہے جبکہ پہلے اس میں دس دن کی مہلت (Grace Time) ہوا کرتا تھا۔

سعودی عرب سے 6 لاکھ غیر قانونی تارکین کے رخصت ہوجانے کے باوجود دسیوں ہزار غیر قانونی مقمین اپنے انجانے مستقبل کی بابت خدشات میں مبتلا ہوگئے ۔ سعودی عرب نے اپنے یہاں مقیم ایسے غیر ملکیوں کو جو اقامہ و محنت قوانین اور سرحدی ضوابط کی خلاف ورزی کرکے قیام پذ یر تھے پہلے 90 دن اور پھر مزید 30 دن کی مہلت دی تھی ۔ انہیں کہا گیا تھا کہ اگر وہ مہلت کے دوران سعودی عرب کو خیرباد کہہ دیتے ہیں تو ایسی صورت میں انہیں قید ، جرمانے اور منفی فنگر پرنٹس کی سزاؤں سے استثنیٰ حاصل ہوجائے گا ۔ ورنہ انہیں تمام سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ مذکورہ دونوں مہلت سے فائدہ ا ٹھاکر 6 لاکھ سے زیادہ غیر ملکی چلے گئے جبکہ مہلت کے اعلان کے موقع پر خیال کیا جارہا تھا کہ 50 لاکھ کے قریب غیر قانونی تارکین وطن واپس چلے جائیں گے لیکن جو غیر ملکی ’’بن لادن‘‘ ’’سعودی اوجیر‘‘ اور سعد کنسٹرکشن کمپنی وغیرہ جیسے بڑ ے اداروں سے فارغ کردیئے گئے تھے مگر ان کی تنخواہیں اور بقایا جات ادا نہیں کئے گئے تھے ، وہ لوگ اپنے حقوق کی وصولی کے انتظار میں مملکت ہی میں رکے رہے۔ جیسا کہ ہم نے بتایا کہ ان معاملات کو سلجھانے میں کافی وقت لگ رہا ہے ۔ لہذا اس دوران کئی افراد کے ا قامے کی مدت ختم ہوگئی ہے ۔ اب وہ عجیب و غریب حالات میں یہاں قیام کئے ہوئے ہیں۔ وہ وطن واپس اس لئے نہیں لوٹ رہے ہیں کیونکہ انہیں اپنے حقوق حاصل ہونے ہیں۔ ایک خبر رساں ایجنسی نے مشرقی ریاض کے لیبر کیمپ میں موجود ایک 28 سالہ ہندوستانی کارکن عاطف کی بپتا خود اس کی زبا نی نقل کرتے ہوئے بتایا کہ ہمیں نہیں پتہ کہ ہمارے ساتھ اب کیا ہوگا ۔ وہ گرفتاری کے ڈر سے کیمپ سے انتہائی ضرورت کے تحت ہی باہر نکلتے ہیں۔ مذکورہ کیمپ میں موجودہ 43 سالہ ایک اور ایشیائی کارکن اورنگ زیب اکرم نے کہا کہ وہ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ وہ غیر قانونی ہے اور نہ ہی اسے یہ دعویٰ تسلیم ہے کہ اس نے مہلت کا فائدہ نہیں اٹھایا۔ اکرم کا کہنا ہے کہ میرے اقامے کی میعاد ختم ہوچکی ہے۔ میری پوزیشن قانون کے مطابق ہے۔ یہاں میں بن لادن کمپنی میں کام کیلئے آیا تھا ۔ تعمیراتی شعبے میں کساد بازاری کے بعد اس نے اکتوبر میں کام چھوڑ دیا تھا ۔ بن لادن گروپ نے تنخواہوں کی ادائیگی روک دی تھی ۔ دسیوں ہزار کارکن اس طرح کی صورتحال سے دوچار ہیں۔ اکرم نے مزید کہا کہ کمپنی نے نہ تو اس کا حساب بے باق کیا اور نہ ہی اقامے کی کارروائی ہی کی۔ پاسپورٹ بھی اپنے پاس محفوظ کر رکھا ہے ۔ اس طرح کے 300 افراد غیر موثر اقاموں کے ساتھ کیمپ میں سکونت پذیر ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب میں 12 ملین غیر ملکی ہیں۔ بیشتر کا تعلق ایشیا اور افریقہ سے ہے۔ یہ تعمیرات اور خدمات کے شعبوں سے منسلک ہیں۔ کئی لاکھ غیر قانونی طریقے سے ایسے کام کر رہے ہیں جو سرکاری اندراج کے دائرے سے خارج ہیں۔ ایسی کمپنیوں سے منسلک ہیں جو سعودی شہریوں کو اعلیٰ تنخواہوں پر رکھنے سے گریز کر رہی ہیں۔

بڑی کمپنیاں جن کا تعلق تعمیراتی شعبہ سے ہے چپ سادے ہوئے ہیں اور ان کے ملازمین پریشانیوں سے دوچار یہاں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ دو روز قبل یہ خبر آئی کہ بن لادن کمپنی 1438 ھ کے حالیہ حج موسم کے بعد حرمین شریفین کے منصوبوں پر دوبارہ کام شروع کردے گی ۔ کمپنی کے اگزیکیٹیو ڈائرکٹر طارق بوقری نے کمپنی کے تمام کارکنان کے نام تحریری پیغام میں یہ خوشخبری دیتے ہوئے کہا ہے کہ حج 1438 ھ کے بعد حرمین شریفین کے منصوبوں پر کام شروع کردیا جائے گا ۔ ملازمین کو 2 سے 3 ماہ کی تنخواہیں جلد ادا کردی جائیں گی ۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ حرمین شریفین منصوبوں سے تعلق رکھنے والے بن لادن کے کارکنان نے ڈیوٹی دینا شروع کردیا ہے ۔ اس سے قبل اطلاع آئی تھی کہ بن لادن کے کدی ٹاور پراجکٹ پر بھی کام شروع کرنے کا عندیہ دے دیا ہے ۔ اس مقصد کیلئے بن لادن کمپنی کے اعلیٰ عہدیداروں نے ثانوی درجہ کے ٹھکیداروں سے ٹنڈرز بھی طلب کرلئے ہیں۔ ابراج کدی ٹاورز دنیا کے عظیم الشان ہوٹلوں میں سے ایک ہوگا جو ڈھائی برس میں مکمل ہوگا ۔
بڑی تعمیراتی کمپنیوں کی سرگرمیوں کے ٹھپ ہوجانے سے مملکت کی پوری مارکٹ میں جمود کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے ۔ بڑی کمپنیوں کی سرگرمیوں کے ماند پڑنے کا اثر ایک چین (زنجیر) کی طرح چلا اور سارے مارکٹ کی سرگرمیاں ٹھنڈی پڑگئیں۔ اس سے یہاں سے روانہ کئے جانے والا زر مبادلہ میں بھی کمی واقع ہوئی ۔ یہاں ایک خبر اور بھی سنی جارہی ہے کہ مستقبل قریب میں خارجی باشندوں پر یہ پابندی عائد کی جائے گی کہ وہ اپنی آمدنی کا صرف 50 فیصد حصہ اپنے ملک بھیج سکیں گے ۔ اس سے زیادہ بھیجی جانے والی رقم پر انہیں ٹیکس ادا کرنا ہوگا ۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو تارکین وطن کیلئے یہ ایک بُری خبر ہے۔ خصوصاً ہندوستانیوں کیلئے جن پر وطن میں بھی نئے ٹیکس عائد ہوگئے ہیں۔

تارکین وطن کیلئے اس ہفتہ ایک خبر یہ آئی ہے جو تارکین کے حق میں ایک اچھی خبر ہے۔ اطلاع ہے کہ سعودی ایوان ہائے صنعت و تجارت کونسل نے اقتصادی و ترقیاتی امور کونسل سے 6 مطالبات کئے ہیں۔ پہلا مطالبہ یہ کیا گیا ہے کہ تارکین وطن پر مقرر ماہانہ فیس پر نظر ثانی کی جائے ۔ دوسرا مطالبہ یہ کیا ہے کہ ایسے پیشے جن پر کام کرنے کیلئے سعودی میسر نہ ہوں اور ان پیشوں کی سعودائزیشن مشکل ہو انہیں سعودائزیشن سے استثنیٰ دیا جائے ۔ تیسرے مطالبے کے تحت توجہ دلائی گئی ہے کہ تارکین پر ماہانہ فیس سے نقدی میں قلت پیدا ہوگی اور ٹھیکے داروں کے اخراجات میں اضافہ ہوگا ۔ چوتھے مطالبے کے تحت واضح کیا گیا ہے کہ اس فیس کی وجہ سے کمپنیاں اپنے معاہدے پورے نہیں کرسکیں گی ۔ اس سلسلے میں انہیں مشکلیں پیش آئیں گی ۔ پانچویں مطالبے کے تحت کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ سرکاری منصوبوں کے نفاذ کی رفتار کو معطل کرے گا ۔ آخری مطالبہ یہ پیش کیا گیا ہے کہ تارکین پر ماہانہ فیس کے فیصلے کے اجراء سے قبل دیئے جانے والے ٹھیکوں اور ٹنڈرس پانے والوں کو زر تلافی دیا جائے ۔
سعودی عرب میں تارکین وطن ہندوستانیوں سے کی جارہی اس گفتگو کی آخری بات سفیر ہند احمد جاوید نے مشورہ دیا ہے کہ سعودی عرب میں ملازمت کیلئے ہندوستان سے نئے آنے والے اپنے ویزے ، ملازمت کنٹراکٹ کی اچھی طرح جانچ پڑتال کر کے ہی یہاں آئیں۔ سفیر ہند یوم آزادی ہند کے موقع پر ہندوستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت کی جانب سے دی گئی مہلت کی مدت سے ہندوستانیوں کی ایک بڑی تعداد وطن واپس ہوگئی اور وطن واپس ہونے والے ان ہندوستانیوں میں رکروٹمنٹ ایجنٹس سے دھوکہ کھانے والوں کی اکثریت تھی ۔ واضح رہے کہ مہلت سے فائدہ ا ٹھاکر وطن جانے والوں میں سے کافی لوگ پھر سے نئے ویزا پر سعودی واپس آرہے ہیں۔ ایسے افراد اور نئے آنے والوں کیلئے سفیر ہند نے یہ انتباہ دیا ہے ۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT