Monday , September 25 2017
Home / عرب دنیا / سعودی عرب اور دولت اسلامیہ یکساں نظریات کے حامل

سعودی عرب اور دولت اسلامیہ یکساں نظریات کے حامل

ریاض ۔ 19 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب میں سزائے موت پانے والے شیعہ عالم نمر باقر النمر کے بیٹے نے مغربی ممالک کو سعودی عرب پر زیادہ دباؤ نہ ڈالنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ محمد النمر نے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ امریکہ اور برطانیہ کا اتحاد طویل مدتی طور پر ان کے عوام کے مفاد میں نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں امریکی اور برطانوی حکومت سے کہنا چاہتا ہوں کہ اگر ان کے مفادات ایک سے بھی ہیں تو بھی انھیں سعودی حکومت پر مزید دباؤ ڈالنا چاہیے۔‘ محمد النمرکا یہ بھی کہنا تھا کہ سعودی عرب میں اسلام کی جس قدامت پسند وہابی شکل پر عمل کیا جاتا ہے، شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے بھی وہی نظریات ہیں۔ ’مثال کے طور پر آپ دیکھ سکتے ہیں کہ سعودی حکومت جس نظریے کی حامی ہے جیسے کہ وہابیت، یہ وہی نظریہ ہے جیسے دولت اسلامیہ استعمال کر رہی ہے۔ وہ اسے اپنے اعمال کو درست ٹھہرانے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔‘ انھوں نے کہا ’میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں انسانی حقوق کے بارے میں سوچنا چاہئے اور آنے والے زمانے میں طویل مدتی طور پر امریکہ اور برطانیہ کے مفاد کے بارے میں سوچنا چاہئے۔‘ محمد النمر نے مزید کہا: ’میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ بعض اوقات ہم اپنے بہت قریب کے مفاد کو ہی دیکھ پاتے ہیں لیکن اگر ہم اپنی عوام، امریکی عوام اور برطانوی عوام کے مفاد کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ طویل مدت میں یہ ان کے حق میں نہیں ہے۔‘ خیال رہیکہ سعودی حکومت کے ناقد شیخ النمرکو ماہ کے اوائل میں سزائے موت دی گئی تھی۔ ان کی سزا پر دنیا بھر خصوصاً ایران میں شدید ردعمل دیکھنے کو ملا تھا اور مشہد اور تہران میں مظاہرین نے سعودی سفارتخانے کی عمارتوں پر حملے کئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT