Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / سعودی عرب اور مصر کا بحری تنازعہ کی یکسوئی سے اتفاق

سعودی عرب اور مصر کا بحری تنازعہ کی یکسوئی سے اتفاق

16 ارب امریکی ڈالر مالیتی سرمایہ کاری فنڈ کے قیام کا اعلان
قاہراہ۔10اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) صدر مصر عبدالفتح السیسی اور سعودی فرمانروا ملک سلمان نے اتفاق کیا کہ 16 ارب امریکی ڈالر مالیتی سرمایہ کاری فنڈ قائم کیا جائے گا اور دیرینہ بحری تنازعات کی یکسوئی کرلی جائے گی ۔ ملک سلمان کا دورہ مصر جو ایک کمیاب واقع ہے ہنوز جاری ہے ۔ ایک دن قبل ملک سلمان نے بحراحمر مصر تک ایک پُل کی تعمیر کا اعلان کیا تھا ۔ دونوں ممالک کے سربراہان حکومت کی ملاقات تاریخی قصرعبدین  مصر میں ہوئی تھی ۔ سربراہان حکومت نے کئی معاہدوں کو قطعیت دی جس سے امکان ہے کہ مصر کی تباہ حال معیشت کو سہارا ملے گا ۔ انتہائی اعلیٰ سطحی اعلانات میں مصر نے کل کہا تھا کہ وہ بحری سرحدوں کا سعودی عرب کے ساتھ ازسرنو تعین کرے گا ۔ سرکاری طور پر دو جزیروں کو جو سعودی سرزمین میں آبنائے تیران میں واقع ہے تنازعہ کی بنیاد ہے ۔ 80سالہ سعودی حکمراں مصر کے دورہ پر ہیں اس سے واضح طور پر السیسی کو سعودی تائید ظاہر ہوتی ہے جو سابق سربراہ فوج ہیں جنہوں نے اسلام پسند پیشرو محمد مُرسی کو 2013ء میں اقتدار سے بے دخل کردیا ہے ۔ جمعرات کے دن ملک سلمان کی اپنے وفد کے ساتھ آمد کے بعد کئی سرمایہ کاریوں کا اعلان کیا گیا ۔ مصر کے سرکاری ٹی وی پر راست نشریہ میں ایک سرکاری عہدیدار کو تازہ ترین معاہدوں کو اعلان کرتے ہوئے دکھایا گیا جس پر دونوں ممالک کے نمائندوں نے دستخط کئے ۔ دونوں ممالک نے اتفاق کیا کہ سعودی ۔ مصر سرمایہ کاری فنڈ 60ارب سعودی ریال (16 ارب امریکی ڈالر) کی رقم کے ساتھ قائم کیا جائے گا ۔

اعلان کرنے والے نے مزید تفصیلات کا انکشاف نہیں کیا ۔ دیگر 12سے زیادہ معاہدے جن میں مصر میں صنعتی علاقہ قائم کرنے کی یادداشت مفاہمت بھی شامل ہیں اعلان کئے گئے ۔ سعودی عرب السیسی کا کلیدی تائید کرنے والا ملک ہے ۔ مُرسی کی حکومت کا تختہ اُلٹنے کے بعد سے السیسی مصر میں برسراقتدار آئے ہیں ۔ محمد مُرسی کی اخوان المسلمین تحریک کو سعودی عرب شک و شبہ کی نظر سے دیکھتا ہے ۔ سعودی عرب نے مصر میں اربوں ڈالر مالیتی امداد سرمایہ کاری کی شکل میں فراہم کی ہے ۔ مصری عہدیدار اور ذرائع ابلاغ نے ملک سلمان کی بھرپور ستائش کی ۔ سرکاری ٹی وی نے ان کا خیرمقدم کرتے ہوئے سعودی عرب کو اپنا دوسرا وطن قرار دیا ۔ سعودی عرب ایران کے خلاف علاقائی قائد بننے کے اپنے عزائم کی اس کو بنیاد سمجھتا ہے لیکن کابینہ نے کل معاہدوں کا اعلان کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ آبنائے تیران کے جزیروں اور سنافیر مصر میں فوری طور پر ردعمل کی وجہ بن سکتے ہیں ۔ہزاروں افراد نے السیسی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ یہ جزائر سعودی عرب کے ہاتھ فروخت کررہے ہیں ۔ تاریخی اعتبار سے تیران سعودی جزیرہ ہے جو 1950ء میں مصر کو  لیز پر دیا گیا تھا ۔ ملک سلمان نے مسجد الازہر کے اپنے دورہ کو ایک تاریخی دورہ قرار دیا ۔

TOPPOPULARRECENT