Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / سعودی عرب اور چین کے درمیان14 اہم معاہدوں پر دستخط

سعودی عرب اور چین کے درمیان14 اہم معاہدوں پر دستخط

سلک روڈ اِکنامک بیلٹ اہم ترین معاہدہ ، صدر چین ژی جن پنگ کو شاہ عبدالعزیز ایوارڈ
ریاض۔ 20 جنوری (سیاست ڈاٹ کام)سعودی عرب اور چین نے باہمی تعاون کے 14 معاہدوں اور یادداشتوں پر دستخط کرتے ہوئے اقتصادی میدان میں مل کر آگے بڑھنے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے سے اتفاق کیا ہے۔چین کے صدر ژی جین پنگ کل منگل کو پہلے سرکاری دورے پر ریاض پہنچے جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ صدر ژی پنگ نے شاہ سلمان سے علیحدہ ملاقات کی۔ سعودی فرمانروا نے اپنے چینی مہمان کو ’شاہ عبدالعزیز ایوارڈ‘ بھی پہنایا۔ بعد میں دونوں رہنماؤں کے درمیان باہمی تعاون کے 14 معاہدے اور یادداشتیں منظور کی گئیں۔ ان میں آزادانہ تجارت، دو طرفہ معاشی ترقی، سائنس و ٹیکنالوجی میں باہمی تعاون، مصنوعی سیاروں، جہاز رانی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرنے جیسے اہم معاہدے شامل ہیں۔چین اور سعودی عرب کی قیادت نے باہمی تعاون کے 14 معاہدوں پر دستخط کیے۔ ان میں اہم ترین سعودی عرب، چین سلک روڈ اکنامک بیلٹ کا معاہدہ سر فہرست ہے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ملک اقتصادی ترقی میں باہمی تعاون کیلئے مغربی چین سے وسطی ایشیا اور وہاں سے یورپ تک سڑکیں، ریلوے لائنیں، ہوائی اڈے اور بندرگاہیں تعمیر کریں گے۔ دو طرفہ تعاون کے دیگر منصوبوں میں ہائی انرجی نیوکلیئر ری ایکٹر کے قیام کی بھی منظوری دی گئی۔ معاہدے پر سعودی عرب کی جانب سے وزیردفاع اور نائب ولی شہزادہ محمد بن سلمان نے جب کہ چین کی جانب سیڈویلپمنٹ وریفرم کمیٹی کے صدرنشین شوشاؤ پاؤ نے دستخط کئے۔

دونوں ملکوں میں سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی تعاون کے معاہدے کی منظوری دی گئی جس پر سعودی عرب کی جانب سے شاہ عبدالعزیز سائنس و ٹیکنالوجی سٹی کے صدرنشین شہزادہ ترکی بن سعود بن محمد اور چینی وزیرخارجہ وانگ یی نے دستخط کئے۔سعوی عرب اور چین کے درمیان باہمی تعاون کے تحت مصنوعی سیاروں کی تیاری میں باہمی تعاون ، سلک روڈ پروجیکٹ کے بارے میں دوطرفہ معلومات کے تبادلے کی منظوری اور گنجان آباد علاقوں میں ماحولیاتی بہتری کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور چینی صدر ژی  جین پنگ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، باہمی تعاون کے فروغ کیساتھ ساتھ عالمی مسائل پر بھی تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوںرہنماؤں نے عالمی امن و استحکام بالخصوص دہشت گردی کے چیلنجس سے نمٹنے کیلئے عالمی برادری کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے سے اتفاق کیا۔اس موقع پر چینی صدر نے دورہ سعودی عرب اور شاہ سلمان سے ملاقات کو اپنے لیے باعث سعادت قرار دیا۔ انہوں نے سعودی عرب کی جانب سے شاندار استقبال پر سعودی قیادت اور قوم کا شکریہ ادا کیا۔ صدر پنگ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور چین کے درمیان مستقبل میں تعلقات مزید مستحکم اور مضبوط ہوں گے۔

چینی صدر نے شاہ سلمان کے ساتھ آئیل ریفائنری کا افتتاح کیا
ریاض ۔ 20 ۔ جنوری (سیاست ڈاٹ کام) چین کے صدر زی جن پنگ اور سعودی عرب کے شاہ سلمان نے آج مشترکہ شعبہ کی پٹرول ریفائنری کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی جو دراصل مشرق وسطی میں چین کے بڑھتے ہوئے تال میل اور اثر و رسوح کی ایک علامت بھی ہے۔ اس کے پہلے دورہ مشرق وسطی کے دوسرے دن سعودی دارالحکومت ریاض میں یہ تقریب منعقد ہوئی جس میں شرکت کے سبب وہ مصر روانہ ہوگئے۔ جہاں سے وہ سعودی عرب کے حریف ملک ایران کے دورہ پر روانہ ہوں گے ۔ بحر احمر کے شہر ینبوع صنعتی شہر کی اس ریفائنری میں سرکردہ سعودی تیل کمپنی آرامکو کا 62.5 فیصد حصہ ہے اور ماباقی حصہ چینی پٹرولیم اینڈ کمیکل کارپوریشن کا ہے۔ سعودی عرب ، چین کو سب سے زیادہ خام تیل سربراہ کرنے والا ملک ہے ۔ ایک ایسے وقت جب مملکت سعودی عرب کو تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی میں زبردست کمی ہوئی ہے ، اس اقدام کو خوش آئند سمجھا جارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT