Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / سعودی عرب سے 25 ستمبر تک واپسی کی مہلت

سعودی عرب سے 25 ستمبر تک واپسی کی مہلت

عدم واپسی پر بیروزگار ہندوستانیوں کو اخراجات خود برداشت کرنے ہونگے : سشما
نئی دہلی ۔ 23 اگست (سیاست ڈاٹ کام) وزیرامورخارجہ سشماسوراج نے آج ایسے ہندوستانی ورکرس سے جو سعودی عرب میں اپنی نوکریوں سے محروم ہوچکے ہیں، اپیل کی کہ 25 ستمبر تک ہندوستان کو واپس ہوجائیں جس میں ناکامی پر انہیں قیام و طعام اور واپسی کے سفر کیلئے خود اپنے طور پر انتظامات کرنے پڑیں گے۔ سشما نے سلسلہ وار ٹوئیٹس میں کہا کہ جنرل وی کے سنگھ نے سعودی عرب کا دو مرتبہ دورہ کیا تاکہ وہاں کمپنیاں بند ہوجانے کے سبب بیروزگار ہوجانے والے انڈین ورکرس کے مسائل کی یکسوئی کی جاسکے۔ اس طرح کے تمام ہندوستانی ورکرس کو میرا مشورہ ہیکہ انہیں اپنی تفصیلات پیش کرتے ہوئے 25 ستمبر 2016ء کو وطن واپس ہوجانا چاہئے ۔ ہم انہیں مفت وطن واپس لائیں گے۔ تاہم 25 ستمبر تک واپس نہ ہونے والوں کو قیام و طعام اور واپسی کے سفر کیلئے خود اپنے طور پر انتظامات کرنے پڑیں گے۔ یہ وزیرموصوفہ کی ہندوستانی ورکرس سے دوسری اپیل ہے۔ قبل ازیں اتوار کو انہوں نے کہا تھا کہ جب سعودی حکومت بند کمپنیوں کے ساتھ معاملات طئے کرلے تو پھر ورکرس کے بقایہ جات بھی ادا کردیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ادعا جات کی یکسوئی کیلئے وقت لگے گا اور سعودی عرب میں غیرمعینہ مدت تک انتظار کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ہزاروں ہندوستانی ورکرس سعودی معیشت میں سست روی کے سبب اپنی نوکریوں سے محروم ہوئے ہیں۔ تیل کی کم تر قیمتوں اور حکومت کی جانب سے مصارف میں کٹوتی کے سبب سعودی معیشت میں تبدیلی آئی ہے۔ سب سے زیادہ متاثرہ تین کمپنیاں سعود عوگر، سعودی بن لادن اور سعد گروپ ہیں۔ قواعد کے مطابق کوئی بھی بیرونی ملازم آجرین کے این او سی کے بغیر ملک نہیں چھوڑ سکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT